اور بلاشبہ یقینا تم ان لوگوں کو جان چکے ہو جو تم میں سے ہفتے (کے دن) میں حد سے گزر گئے تو ہم نے ان سے کہا ذلیل بندر بن جاؤ۔
En
اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی تمھارے نزدیک ان لوگوں کی حالت ثابت ہو گئی ہے ﴿الَّذِیْنَاعْتَدَوْامِنْكُمْفِیالسَّبْتِ﴾ جنھوں نے تم میں سے ہفتے کے روز زیادتی سے کام لیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا مبسوط اور مفصل قصہ اللہ تعالی نے سورۂ اعراف میں بیان کیا ہے:
”اور آپ ان لوگوں سے، اس بستی والوں کا جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھیے! جبکہ وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جبکہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہوہوکر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت سزا دینے والا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ تمھارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لیے اور اس لیے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔ سو جب وہ اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچالیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب سے پکڑلیا اس وجہ سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے۔“
اس گناہ عظیم نے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب واجب کر دیا۔ ﴿ قِرَدَةًخٰسِـِٕیْنَ﴾ اور ان کو حقیر اور ذلیل بندر بنا دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس سزا کو ان قوموں کے لیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولقد تقرر عندكم حالةُ، {الذين اعتدوا منكم في السبت}؛ وهم الذين ذكر الله قصتهم مبسوطة في سورة الأعراف في قوله: {واسألهم عن القرية التي كانت حاضرة البحر إذ يعدون في السبت ... } الآيات؛ فأوجب لهم هذا الذنب العظيم أن غضب الله عليهم، وجعلهم {قردة خاسئين}؛ حقيرين ذليلين، وجعل الله هذه العقوبة:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔