تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 66

فَجَعَلۡنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَ مَا خَلۡفَہَا وَ مَوۡعِظَۃً لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۶۶﴾
تو ہم نے اسے ان لوگوں کے لیے جو اس کے سامنے تھے اور جو اس کے پیچھے تھے، ایک عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے ایک نصیحت بنا دیا۔ En
اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا
En
اسے ہم نے اگلوں پچھلوں کے لئے عبرت کا سبب بنا دیا اور پرہیزگاروں کے لئے وعﻆ ونصیحت کا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا عبرت بنا دیا جو اس وقت وہاں موجود تھیں اور اس زمانے کی وہ قومیں جن تک یہ خبر پہنچی ﴿ وَمَا خَلْفَهَا اور ان قوموں کے لیے جو ان کے بعد آئیں، تاکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو اور وہ گناہوں سے باز آ جائیں مگر یہ نصیحت صرف اہل تقویٰ کے کام آتی ہے۔ ان کے علاوہ دیگر لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{نكالاً لما بين يديها}؛ أي: لمن حضرها من الأمم، وبلغه خبرها ممن هو في وقتهم {وما خلفها}؛ أي: من بعدها فتقوم على العباد حجة الله، وليرتدعوا عن معاصيه، ولكنها لا تكون موعظة نافعة إلا للمتقين، وأما من عداهم فلا ينتفعون بالآيات.