تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 64

ثُمَّ تَوَلَّیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ۚ فَلَوۡ لَا فَضۡلُ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُہٗ لَکُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۴﴾
پھر تم اس کے بعد پھر گئے تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔ En
تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے
En
لیکن تم اس کے بعد بھی پھر گئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان والے ہوجاتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اس نہایت بلیغ تاکید کے بعد فرمایا: ﴿ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ یعنی پھر تم نے اس سے اعراض کیا اور یہ روگردانی تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کے سخت ترین عذاب کا باعث بنی ﴿فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْ٘خٰؔسِرِیْنَ لیکن اگر تم پر اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم یقیناً خسارے میں پڑ جاتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فبعد هذا التأكيد البليغ {توليتم}؛ وأعرضتم وكان ذلك موجباً لأن يحل بكم أعظم العقوبات ولكن {لولا فضل الله عليكم ورحمته لكنتم من الخاسرين}.