اور جب ہم نے تمھارا پختہ عہد لیا اور تمھارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا۔ پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمھیں دیا ہے اور جو اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔
En
اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو
اور جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور پہاڑ ﻻکھڑا کردیا (اور کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم بچ سکو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کے افعال کی وجہ سے ان پر زجر و توبیخ کا پھر اعادہ کیا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَاِذْاَخَذْنَامِیْثَاقَكُمْ ﴾ یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا۔ (مِیثَاق) سے مراد ایسا پکا عہد ہے جو طور کو ان کے اوپر معلق کر کے ڈر اور دباؤ کے ذریعے سے موکد کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا ﴿خُذُوْامَاۤاٰتَیْنٰكُمْ﴾ یعنی تورات کو پکڑے رہو ﴿ بِقُوَّةٍ ﴾ یعنی تورات کو محنت، کوشش اور اللہ تعالیٰ کے اوامر پر صبر و استقامت کے ساتھ پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذْكُرُوْامَافِیْهِ﴾ یعنی جو کچھ تمھاری کتاب میں ہے اسے سیکھو اور اس کی تلاوت کرو۔ ﴿لَعَلَّـكُمْتَتَّقُوْنَ﴾”تاکہ تم اللہ تعالی کے عذاب اور اس کی ناراضی سے بچو “ یا ”تاکہ تم اہل تقویٰ میں شمار ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: واذكروا، {إذ أخذنا ميثاقكم}؛ وهو العهد الثقيل المؤكد بالتخويف لهم برفع الطور فوقهم وقيل لهم، {خذوا ما آتيناكم}؛ من التوراة {بقوة}؛ أي بجد واجتهاد، وصبر على أوامر الله {واذكروا ما فيه}؛ أي: ما في كتابكم بأن تتلوه وتتعلموه {لعلكم تتقون}؛ عذاب الله وسخطه، أو لتكونوا من أهل التقوى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔