تو شیطان نے دونوں کو اس سے پھسلا دیا، پس انھیں اس سے نکال دیا جس میں وہ دونوں تھے اور ہم نے کہا اتر جاؤ، تمھارا بعض بعض کا دشمن ہے اور تمھارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے۔
En
پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے
لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائده اٹھانا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چنانچہ وہ دونوں اس کی باتوں میں آ کر دھوکا کھا گئے اور اس کے پیچھے لگ گئے اور اس نے ان دونوں کو نعمتوں اور آسائشوں کے گھر سے نکال باہر کیا اور ان کو دکھوں، تکلیفوں اور مجاہدے کی سرزمین پر اتار دیا گیا۔
﴿بَعْضُکُمْلِبَعْضٍعَدُوٌّ﴾”تمھارا ایک، دوسرے کا دشمن ہے۔“ یعنی ابلیس اور اس کی ذریت، آدم اور اولاد آدم کی دشمن ہوگی اور ہمیں معلوم ہے کہ دشمن اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ ہر طریقے سے اس کی برائی چاہتا ہے اور ہر طریقے سے اسے بھلائی سے محروم کرنے کے درپے رہتا ہے۔ اس ضمن میں بنی آدم کو شیطان سے ڈرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنَّالشَّ٘یْطٰنَلَكُمْعَدُوٌّفَاتَّؔخِذُوْهُعَدُوًّا١ؕاِنَّمَایَدْعُوْاحِزْبَهٗلِیَكُوْنُوْامِنْاَصْحٰؔبِالسَّعِیْرِ﴾ (فاطر:35؍6) ”بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے تم اسے دشمن ہی سمجھو وہ تو اپنی جماعت کو بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔“﴿اَفَتَتَّؔخِذُوْنَهٗوَذُرِّیَّتَهٗۤاَوْلِیَآءَمِنْدُوْنِیْوَهُمْلَكُمْعَدُوٌّ١ؕبِئْ٘سَلِلظّٰلِمِیْنَبَدَلًا﴾ (الکہف: 18؍50) ”کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوا اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں؟ اور ظالموں کے لیے بہت ہی برا بدلہ ہے۔“
پھر انھیں زمین پر اتارے جانے کے مقصد سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَكُمْفِیالْاَرْضِمُسْتَقَرٌّؔ﴾ یعنی زمین کے اندر تمھارا مسکن اور ٹھکانا ہو گا۔ ﴿وَمَتَاعٌاِلٰىحِیْنٍ﴾ تمھارا وقت پورا ہونے تک (تم نے اس سے فائدہ اٹھانا ہے) پھر تم اس گھر میں منتقل ہوجاؤ گے جس کے لیے تمھیں اور جسے تمھارے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں واضح ہے کہ اس زندگی کی مدت عارضی اور ایک خاص وقت تک کے لیے ہے، یہ دنیا حقیقی مسکن نہیں ہے۔ یہ تو ایک راہ گزر ہے جہاں سے اگلے جہان کے لیے زاد راہ حاصل کیا جاتا ہے (دوران سفر) اس راہ گزر میں مستقل ٹھکانا تعمیر نہیں کیا جاتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فاغترا به وأطاعاه؛ فأخرجهما مما كانا فيه من النعيم، والرغد، وأُهْبِطوا إلى دار التعب والنصب والمجاهدة {بعضكم لبعض عدو}؛ أي: آدم وذريته أعداء لإبليس وذريته.
ومن المعلوم أن العدو يَجِدُّ ويجتهد في ضرر عدوه وإيصال الشر إليه بكل طريق وحرمانه الخير بكل طريق، ففي ضمن هذا تحذير بني آدم من الشيطان كما قال تعالى: {إنّ الشيطان لكم عدو فاتخذوه عدواً إنما يدعو حزبه ليكونوا من أصحاب السعير} {أفتتخذونه وذريته أولياء من دوني وهم لكم عدو بئس للظالمين بدلاً} ثم ذكر منتهى الإهباط فقال: {ولكم في الأرض مستقر}؛ أي: مسكن وقرار {ومتاعٌ إلى حين}؛ انقضاء آجالكم ثم تنتقلون منها للدار التي خُلقتم لها وخلقت لكم، ففيها أن مدة هذه الحياة مؤقتة عارضة ليست مسكناً حقيقياً، وإنما هي معبر يُتزوَّد منها لتلك الدار، ولا تُعمَّر للاستقرار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔