تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 37

فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۳۷﴾
پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے، تو اس نے اس کی توبہ قبول کر لی، یقینا وہی ہے جو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے
En
(حضرت) آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بےشک وہی توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

آدم علیہ السلام نے (کچھ کلمات) سیکھ لیے اور یاد کر لیے، اللہ تعالیٰ نے یہ کلمات آدم کو الہام کیے تھے۔ وہ کلمات یہ تھے ﴿ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (الاعراف: 7؍23) اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تونے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کا سوال کیا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ پس اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کر لی اور اس پر رحم فرمایا۔ جو کوئی توبہ کرتا اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں: (۱) سب سے پہلے اللہ تعالیٰ بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ (۲) پھر جب توبہ کی تمام شرائط پوری ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کر لیتا ہے۔
﴿الرَّحِیْمُ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔ ان پر اس کی رحمت یہ ہے کہ اس نے انھیں توبہ کی توفیق سے نوازا اور ان کو معاف کر کے ان سے درگزر فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فتلقّى آدم}؛ أي: تلقف وتلقن وألهمه الله {من ربه كلمات}؛ وهي قوله: {ربنا ظلمنا أنفسنا ... }؛ الآية؛ فاعترف بذنبه، وسأل الله مغفرته {فتاب}؛ الله، {عليه}؛ ورحمه {إنه هو التواب}؛ لمن تاب إليه وأناب.

وتوبته نوعان: توفيقه أولاً. ثم قبوله للتوبة إذا اجتمعت شروطها ثانياً.

{الرحيم}؛ بعباده، ومن رحمته بهم أن وفقهم للتوبة وعفا عنهم وصفح.