تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 35

وَ قُلۡنَا یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنۡہَا رَغَدًا حَیۡثُ شِئۡتُمَا ۪ وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۵﴾
اور ہم نے کہا اے آدم! تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور دونوں اس میں سے کھلا کھائو جہاں چاہو اور تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم دونوں ظالموں سے ہو جاؤ گے۔ En
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
En
اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ﻇالم ہوجاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُ٘نْ٘ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَؔكُلَا مِنْهَا رَغَدًا ہم نے کہا، اے آدم! رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ تم اس سے خوب سیر ہوکر۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا، اس کو فضیلت عطا کی، تو خود اسی میں سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے اس پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا تاکہ وہ اپنی بیوی کے پاس سکون، راحت اور انس حاصل کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ جنت میں رہیں اور جنت میں مزے سے بے روک ٹوک کھائیں پئیں۔
﴿ حَیْثُ شِئْتُمَا یعنی جہاں سے چاہو، مختلف اصناف کے پھل اور میوے کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَلَا تَعْرٰىۙ۰۰وَاَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَلَا تَضْحٰؔى (طٰہ: 20؍118۔119) یہاں تجھے یہ آسانی حاصل ہو گی کہ تو اس میں بھوکا رہے گا نہ عریاں ہو گا۔ نہ تو اس میں پیاسا ہو گا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی۔
﴿وَلَا تَقْرَبَا ھَذِہٖ الشَّجَرَۃَ اور دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا یہ جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے۔ واللہ اعلم۔ آدم اور اس کی بیوی کو صرف ان کی آزمائش اور امتحان کے لیے یا کسی ایسی حکمت کے تحت اس درخت کے قریب جانے سے روکا گیا تھا جو ہمارے علم میں نہیں۔ ﴿فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ پس تم بے انصافوں میں سے ہو جاؤ گے یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہاں نہی تحریم کے لیے ہے۔ کیونکہ اس ممانعت پرعمل نہ کرنے کو ظلم کہا ہے۔ ان کا دشمن (ابلیس) ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا رہا اور اس درخت کے پھل کو تناول کرنے کی خوبیوں کو مزین کر کے انھیں اس پھل کو کھا لینے کی ترغیب دیتا رہا حتیٰ کہ وہ انھیں پھسلانے میں کامیاب ہو گیا۔ ابلیس کی تزئین نے ان کو اس لغزش پر آمادہ کیا۔ ﴿وَقَاسَمَھُمَآ اِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَ (الاعراف: 7؍21) اس نے ان دونوں کے سامنے قسم کھائی کہ میں تمھارا خیر خواہ ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما خلق الله آدم وفضَّله، أتمَّ نعمته عليه بأن خلق منه زوجة؛ ليسكن إليها ويستأنس بها، وأمرهما بسكنى الجنة والأكل منها رغداً؛ أي: واسعاً هنيئاً {حيث شئتما}؛ أي: من أصناف الثمار والفواكه، وقال الله له: {إن لك أن لا تجوع فيها ولا تعرى، وأنك لا تظمأ فيها ولا تضحى}، {ولا تقربا هذه الشجرة}؛ نوع من أنواع شجر الجنة الله أعلم بها، وإنما نهاهما عنها امتحاناً وابتلاء أو لحكمة غير معلومة لنا، {فتكونا من الظالمين}؛ دل على أن النهي للتحريم؛ لأنه رتب الظلم عليه ؛ فلم يزل عدوهما يوسوس لهما ويزين لهما تناول ما نُهيا عنه حتى أزلهما أي حملهما على الزلل بتزيينه {وقاسمهما}؛ بالله {إني لكما لمن الناصحين}.