اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بے شک میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ انھوں نے کہا کیا تو اس میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا اور بہت سے خون بہائے گا اور ہم تیری تعریف کے ساتھ ہر عیب سے پاک ہونا بیان کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا بے شک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
En
اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے واﻻ ہوں، تو انہوں نے کہا ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟ اور ہم تیری تسبیح، حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِذْقَالَرَبُّكَلِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠اِنِّیْجَاعِلٌفِیالْاَرْضِخَلِیْفَةً﴾”اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین میں ایک خلیفہ بناؤں گا“ یہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی ابتدا اور ان کی فضیلت کا ذکر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ کیا تو اس نے فرشتوں کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ وہ آدم کو زمین کے اندر خلیفہ بنائے گا۔ اس پر تمام فرشتوں نے کہا: ﴿اَتَجْعَلُفِیْھَامَنْیُّفْسِدُفِیْھَا﴾”کیا تو زمین میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا“ یعنی گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین پر فساد برپا کرے گا ﴿وَیَسْفِکُالدِّمَآءَ﴾”اور خون بہائے گا“ یہ عموم کے بعدتخصیص ہے اور اس کا مقصد قتل کے مفاسد کی شدت کو بیان کرنا ہے۔ اور یہ فرشتوں کے گمان کے مطابق تھا کہ وہ ہستی جسے زمین میں خلیفہ بنایا جارہا ہے اس کی تخلیق سے زمین کے اندر فساد ظاہر ہو گا، چنانچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور عظمت بیان کرتے ہوئے عرض کی کہ وہ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں جو تمام مفاسد سے پاک ہے۔ چنانچہ انھوں نے کہا: ﴿ وَنَحْنُنُ٘سَبِّحُبِحَمْدِكَ﴾”اور ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں تیری خوبیوں کے ساتھ“ یعنی ہم ایسی تنزیہ کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں جو تیری حمد و جلال کے لائق ہے۔ ﴿وَنُقَدِّسُلَکَ﴾ اس میں ایک معنی کا احتمال یہ ہے کہ ہم تیری تقدیس بیان کرتے ہیں یعنی (نُقَدِّسُکَ) اس صورت میں لام تخصیص اور اخلاص کا فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس کے معنی ہوں۔ (وَنُقَدِّسُلَکَاَنْفُسَنَا) ”ہم اپنے آپ کو تیرے لیے پاک کرتے ہیں“ یعنی ہم اپنے نفوس کو اخلاق جمیلہ جیسے محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور تعظیم الٰہی کے ذریعے سے پاک کرتے ہیں اور ہم اپنے نفسوں کو اخلاق رزیلہ سے بھی پاک کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنِّیْۤاَعْلَمُ﴾ یعنی میں جانتا ہوں کہ یہ خلیفہ کون ہے۔ ﴿مَالَاتَعْلَمُوْنَ﴾ جو تم نہیں جانتے کیونکہ تمھارا کلام تو ظن اور گمان پر مبنی ہے جب کہ میں ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اس خلیفہ کی تخلیق سے جو خیر اور بھلائی حاصل ہو گی وہ اس شر سے کئی گنا زیادہ ہے جو اس کی تخلیق میں مضمر ہے اور اس میں یہ بات بھی نہ ہوتی، تب بھی اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ کہ وہ انسانوں میں سے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کو چنے، اس کی نشانیاں مخلوق پر واضح ہوں اور اس سے عبودیات کی وہ کیفیتیں حاصل ہوں جو اس خلیفہ کی تخلیق کے بغیر حاصل نہ ہو سکتی تھیں، جیسے جہاد وغیرہ ہیں اور امتحان اور آزمائش کے ذریعے سے خیروشر کی وہ قوتیں ظاہر ہوں جو مکلفین کی فطرت میں پوشیدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور دوستوں اور اس کے خلاف جنگ لڑنے والوں اور حزب اللہ کے مابین امتیاز ہو۔ اور ابلیس کا وہ شر ظاہر ہو جو اس کی فطرت میں پوشیدہ ہے اور جس سے وہ متصف ہے۔ تو آدم علیہ السلام کی تخلیق میں یہ حکمتیں ہی اتنی عظیم ہیں کہ ان میں سے چند ایک بھی اس کی تخلیق کے لیے کافی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا شروع في ابتداء خلق آدم عليه السلام أبي البشر وفضلهِ، وأن الله تعالى حين أراد خلقه أخبر الملائكة بذلك، وأن الله مستخلفه في الأرض، فقالت الملائكة عليهم السلام: أتجعل فيها من يفسد فيها بالمعاصي ويسفك الدماء، وهذا تخصيص بعد تعميم؛ لبيان شدة مفسدة القتل، وهذا بحسب ظنهم أن الخليفةَ المَجْعُول في الأرض سيحْدُثُ منه ذلك، فنزهوا الباري عن ذلك وعظموه، وأخبروا أنهم قائمون بعبادة الله على وجه خالٍ من المفسدة فقالوا: {ونحن نسبح بحمدك}؛ أي: ننزهك التنزيه اللائق بحمدك وجلالك {ونقدس لك}؛ يحتمل أن معناها ونقدسك؛ فتكون اللام مفيدة للتخصيص والإخلاص، ويحتمل أن يكون: ونقدس لك أنفسنا؛ أي: نطهرها بالأخلاق الجميلة؛ كمحبة الله، وخشيته، وتعظيمه، ونطهرها من الأخلاق الرذيلة {قال}؛ الله للملائكة: {إني أعلم}؛ من هذا الخليفة {ما لا تعلمون}؛ لأن كلامكم بحسب ما ظننتم، وأنا عالم بالظواهر والسرائر، وأعلم أن الخير الحاصل بخلق هذا الخليفة أضعاف أضعاف ما في ضمن ذلك من الشر، فلو لم يكن في ذلك، إلا أن الله تعالى أراد أن يجتبي منهم الأنبياء والصديقين والشهداء والصالحين، ولتظهر آياته للخلق ، ويحصل من العبوديات التي لم تكن تحصل بدون خلق هذا الخليفة كالجهاد وغيره، وليظهر ما كمن في غرائز المكلفين من الخير والشر بالامتحان، وليتبين عدوه من وليه وحزبه من حربه، وليظهر ما كَمُن في نفس إبليس من الشر الذي انطوى عليه واتصف به، فهذه حكم عظيمة يكفي بعضها في ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔