تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنۡۢبِـُٔوۡنِیۡ بِاَسۡمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور آدم کو سب کے سب نام سکھلا دیے، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا،پھر فرمایا مجھے ان کے نام بتائو اگر تم سچے ہو ۔ En
اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ
En
اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَؔ كُلَّهَا یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے اسماء اور ان کے مسمی کا علم عطا کر دیا۔ پس اس نے اسے اسم اور مسمی دونوں کی تعلیم دی، یعنی الفاظ اور معانی دونوں سکھا دیے۔ یہاں تک کہ اسماء میں سے مکبر اور مصغر کے مابین امتیاز کو بھی واضح کر دیا، مثلاً قَصْعَۃٌ (پیالہ) اور قُصَیْعَۃٌ (چھوٹا سا پیالہ)
﴿ثُمَّ عَرَضَھُمْ یعنی پھر ان مسمیات کو پیش کیا ﴿عَلَی الْمَلٰٓىِٕكَةِ فرشتوں پر یعنی فرشتوں کو آزمانے کے لیے کہ آیا یہ ان مسمیات کو پہچانتے ہیں یا نہیں اور فرمایا: ﴿ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ۠ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ اگر تم اپنے اس دعوے اور گمان میں سچے ہو کہ تم اس خلیفہ سے افضل ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَعَلَّمَ {آدم الأسماء كلَّها}؛ أي: أسماء الأشياء ومن هو مسمى بها، فعلمه الاسم والمُسمَّى؛ أي: الألفاظ والمعاني حتى المصغر من الأسماء والمكبر؛ كالقصعة والقُصيْعَة {ثم عرضهم}؛ أي: عرض المسمَّيَات {على الملائكة}؛ امتحاناً لهم هل يعرفونها أم لا {فقال أنبئوني بأسماء هؤلاء إن كنتم صادقين}؛ في قولكم وظنكم أنكم أفضل من هذا الخليفة.