تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ خلیفہ وہ ہے جو کسی کی موت کے بعد یا اس کے غائب ہونے کی صورت میں اس کا جانشین بنے، یا تمام امور خود سر انجام نہ دے سکنے کی صورت میں بعض معاملات میں اس کا نائب ہو۔ یہاں خلیفہ سے اللہ کا خلیفہ مراد لینا درست نہیں، کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ پر موت آئے گی نہ وہ غائب ہے اور نہ وہ اپنے کاموں میں کسی کا محتاج ہے، بلکہ بقول ابن کثیر رحمہ اللہ {” قَوْمًا يَخْلُفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ جِيْلاً بَعْدَ جِيْلٍ“} یعنی خلیفہ سے ایسے لوگ مراد ہیں جو نسلاً بعد نسل ایک دوسرے کے جانشین بنیں گے۔ اسی طرح خلیفہ سے مراد صرف آدم علیہ السلام نہیں بلکہ پوری نوع انسان ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ زمین میں فساد اور خون بہانا آدم علیہ السلام کا نہیں بلکہ اولاد آدم کا کام تھا۔ [ابن کثیر]
➌ فرشتوں کو انسان کا زمین میں فساد کرنا کیسے معلوم ہوا؟ جواب یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے انھیں بتا دیا تھا۔ دلیل ان کا یہ کہنا ہے کہ ”ہمیں کچھ علم نہیں مگر جو تو نے ہمیں سکھایا۔“ فرشتوں کا سوال اعتراض کے لیے نہیں بلکہ انسان کی پیدائش کی حکمت معلوم کرنے کے لیے تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[39] آدم خلیفہ کس کا؟ یہاں علی الاطلاق خلیفہ (نائب، قائم مقام) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ صراحتاً یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آدمؑ اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے یا کسی دوسری مخلوق کا۔ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ خلیفہ چونکہ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی کے مرنے یا عدم موجودگی کی صورت میں اس کے اختیارات سنبھالتا ہے اور اللہ تو حی لایموت اور ہمہ وقت حاضر ہے۔ لہٰذا آدم اللہ کے خلیفہ نہیں تھے، بلکہ جنوں کے خلیفہ تھے پھر ایک ایسی روایت بھی ملتی ہے کہ انسان کی پیدائش سے پیشتر اس زمین پر جن آباد تھے جو فتنہ فساد اور قتل و غارت کرتے رہتے تھے، تو اللہ نے فرشتوں کا لشکر بھیج کر ان جنوں کو سمندروں کی طرف دھکیل دیا اور آدمؑ ان کے خلیفہ ہوئے اور بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ خلافت یا نیابت کے لیے موت یا عدم موجودگی ضروری نہیں، بلکہ کوئی با اختیار ہستی اپنی موجودگی میں بھی کسی کو کچھ اختیارات تفویض کر کے اسے اپنا خلیفہ یا نائب بنا سکتی ہے کہ وہ اس کی منشا کے مطابق ان اختیارات کو استعمال کرے۔ ہمارے خیال میں دوسری رائے راجح ہے، کیونکہ اس کی تائید ایک آیت [33: 72] سے بھی ہو جاتی ہے، اور دنیا میں موجود سفارتی نظام سے بھی، محولہ آیت کا ترجمہ یوں ہے: ہم نے امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی اور انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اور اس بار عظیم کے اٹھانے سے ڈر گئے۔ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔ کیونکہ انسان تو انتہائی ظالم اور نادان واقع ہوا ہے (33: 72) اور تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہاں امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے فرائض و احکام کی تعمیل اور ان کے نفاذ کا بار ہے اور اسی کا دوسرا نام نظام خلافت ہے۔
[40] فرشتوں کا یہ قیاس کہ ”بنی آدم دنیا میں فتنہ فساد اور قتل و غارت ہی کریں گے۔“ یا تو اس لحاظ سے تھا کہ جن بھی زمین میں پہلے یہی کچھ کر چکے تھے اور یا اس لحاظ سے کہ جس ہستی کو اختیارات تفویض کر کے اسے اپنے اختیار و ارادہ کی قوت بھی دی جا رہی ہے وہ افراط و تفریط سے بچ نہ سکے گا اور اس طرح فتنہ و فساد رونما ہو گا۔
[41] تخلیق آدم پر فرشتوں کا اعتراض کیا تھا؟ فرشتوں کا یہ جواب تخلیق آدم پر اعتراض نہ تھا بلکہ اس سے تخلیق آدم کی عدم ضرورت کا اظہار مقصود تھا۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ جب ہم مدبرات امر ہونے کی حیثیت سے کارگاہِ کائنات کو پوری سرگرمی اور خوبی سے چلا رہے ہیں۔ ہم تیرے حکم کی نافرمانی بھی نہیں کرتے تیری تسبیح تقدیس بھی کرتے رہتے ہیں، اور اس کائنات کو پاک و صاف بھی رکھتے ہیں اور جب یہ سب کام بخیر و خوبی سر انجام پا رہے ہیں تو پھر آدمؑ کو بطور خلیفہ پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے بالخصوص ایسی صورت میں کہ اس خلیفہ سے فتنہ و فساد بھی متوقع ہے۔ ان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہم چونکہ تیری تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا خلافت کے اصل حقدار تو ہم تھے۔ نہ کہ آدم جو ایسے اور ایسے کام کرے گا۔
[42] یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کو اجمالی جواب ہے۔ تفصیلی جواب آگے آ رہا ہے۔ البتہ ضمناً اس آیت سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ علم غیب فرشتوں کو بھی حاصل نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک شاذ قرأت میں خلیفہ بھی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ خلیفہ سے مراد صرف آدم ہیں لیکن اس بارے میں تفسیر رازی کے مفسر نے اختلاف کو ذکر کیا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مطلب نہیں۔ اس کی ایک دلیل تو فرشتوں کا یہ قول ہے کہ وہ زمین میں فساد کریں گے اور خون بہائیں گے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اولاد آدم علیہ السلام کی نسبت یہ فرمایا تھا نہ کہ خاص آدم کی نسبت۔ یہ اور بات ہے کہ اس کا علم فرشتوں کو کیونکر ہوا؟ یا تو کسی خاص ذریعہ سے انہیں یہ معلوم ہوا یا بشری طبیعت کے اقتضا کو دیکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہو گا کیونکہ یہ فرما دیا گیا تھا کہ اس کی پیدائش مٹی سے ہو گی یا لفظ خلیفہ کے مفہوم سے انہوں نے سمجھ لیا ہو گا کہ وہ فیصلے کرنے والا مظالم کی روک تھام کرنے والا اور حرام کاموں اور گناہوں کی باتوں سے روکنے والا ہو گا یا انہوں نے پہلی مخلوق کو دیکھا تھا اسی بنا پر اسے بھی قیاس کیا ہو گا۔
یہ تو جانتے تھے کہ اس مخلوق میں فسادی لوگ بھی ہوں گے تو اب با ادب سوال کیا کہ پروردگار ایسی مخلوق کے پیدا کرنے میں کون سی حکمت ہے؟ اگر عبادت مقصود ہے تو عبادت تو ہم کرتے ہی ہیں، تسبیح و تقدیس و تحمید ہر وقت ہماری زبانوں پر ہے اور پھر فساد وغیرہ سے پاک ہیں تو پھر اور مخلوق جن میں فسادی اور خونی بھی ہوں گے کس مصلحت پر پیدا کی جا رہی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کا جواب دیا کہ باوجود اس کے فساد کے اسے جن مصلحتوں اور حکمتوں کی بنا پر میں پیدا کر رہا ہوں انہیں میں ہی جانتا ہوں تمہارا علم ان حکمتوں تک نہیں پہنچ سکتا میں جانتا ہوں کہ ان میں انبیاء اور رسول ہوں گے ان میں صدیق اور شہید ہوں گے۔ ان میں عابد، زاہد، اولیاء، ابرار، نیکوکار، مقرب بارگاہ، علماء، صلحاء، متقی، پرہیزگار، خوف الٰہی، حب باری تعالیٰ رکھنے والے بھی ہوں گے۔ میرے احکام کی بسر و چشم تعمیل کرنے والے، میرے نبیوں کے ارشاد پر لبیک پکارنے والے بھی ہوں گے۔
صحیحین کی حدیث میں ہے کہ دن کے فرشتے صبح صادق کے وقت آتے ہیں اور عصر کو چلے جاتے ہیں۔ تب رات کے فرشتے آتے ہیں اور صبح کو جاتے ہیں۔ آنے والے جب آتے ہیں تب بھی اور جب جاتے ہیں تب بھی صبح کی اور عصر کی نماز میں لوگوں کو پاتے ہیں اور دربار الٰہی میں پروردگار کے سوال کے جواب میں دونوں جماعتیں یہی کہتی ہیں کہ گئے تو نماز میں پایا اور آئے تو نماز میں چھوڑ کر آئے۔ [صحیح بخاری:555:صحیح] یہی وہ مصلحت اللہ ہے جسے فرشتوں کو بتایا گیا کہ میں جانتا ہوں اور تم نہیں جانتے۔ ان فرشتوں کو اسی چیز کو دیکھنے کے لیے بھیجا جاتا ہے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اور رات کے دن سے پہلے الٰہ العالمین کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:179:صحیح]
بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین سے ساری زمین مراد ہے۔ فرشتوں نے جب یہ سنا تو پوچھا تھا کہ وہ خلیفہ کیا ہو گا؟ اور جواب میں کہا گیا تھا کہ اس کی اولاد میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو زمین میں فساد کریں، حسد و بغض کریں، قتل و خون کریں ان میں وہ عدل و انصاف کرے گا اور میرے احکام جاری کرے گا تو اس سے مراد آدم ہیں۔ جو ان کے قائم مقام اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور مخلوق میں عدل و انصاف کرنے کی بنا پر فساد پھیلانے اور خون بہانے والے خلیفہ نہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ یہاں مراد خلافت سے ایک زمانہ جو دوسرے زمانہ کے بعد آتا ہے۔ خلیفہ فعیلہ، کے وزن پر ہے۔ جب ایک کے بعد دوسرا اس کے قائم مقام ہو تو عرب کہتے ہیں۔ «خَلَفَ فُلاَنٌ فُلاَنًا» فلاں شخص کا خلیفہ ہوا جیسے قرآن میں ہے کہ ہم ان کے بعد تمہیں زمین کا خلیفہ بنا کر دیکھتے ہیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ [10-يونس:14] اور اسی لیے سلطان اعظم کو خلیفہ کہتے ہیں اس لیے کہ وہ اگلے بادشاہ کا جانشین ہوتا ہے محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ زمین کا ساکن اس کی آبادی کرنے والا ہے۔
اور یہ بھی مروی ہے کہ جنات کے فساد پر انہوں نے بنی آدم کے فساد کو قیاس کر کے یہ سوال کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آدم علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے سے جنات زمین میں آباد تھے۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرشتے بدھ کے دن پیدا ہوئے اور جنات کو جمعرات کے دن پیدا کیا اور جمعہ کے دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی تھی کہ ابن آدم ایسا ایسا کریں گے، اس بنا پر انہوں نے سوال کیا۔
پھر اس روایت میں ہے کہ دو فرشتوں نے یہ سوال کیا۔ یہ قرآن کی روانی عبارت کے بھی خلاف ہے۔ یہ بھی روایت مروی ہے کہ یہ کہنے والے فرشتے دس ہزار تھے اور وہ سب کے سب جلا دئیے گئے۔ یہ بھی بنی اسرائیلی روایت ہے اور بہت ہی غریب ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سوال کی انہیں اجازت دی گئی تھی اور یہ بھی معلوم کرا دیا گیا تھا کہ یہ مخلوق نافرمان بھی ہو گی تو انہوں نے نہایت تعجب کے ساتھ اللہ کی مصلحت معلوم کرنے کے لیے یہ سوال کیا نہ کہ کوئی مشورہ دیا یا انکار کیا یا اعتراض کیا ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ کون سا کلام افضل ہے جواب دیتے ہیں وہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لیے پسند فرمایا سبحان اللہ وبحمدہ [صحیح مسلم:2731:صحیح] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج والی رات آسمانوں پر فرشتوں کی یہ تسبیح سنی «سبحان العلی الاعلی سبحانہُ تعالیٰ» ۔
کرامیہ [شیعہ] کا قول ہے کہ دو اور زیادہ بھی ایک وقت میں امام ہو سکتے ہیں جیسے کہ سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں اطاعت کے لائق تھے۔ یہ گروہ کہتا ہے کہ جب ایک وقت میں دو دو اور زیادہ نبیوں کا ہونا جائز ہے تو اماموں کا جائز ہونا جائز کیوں نہ ہو؟ نبوت کا مرتبہ تو یقیناً امامت کے مرتبے سے بہت زیادہ ہے [لیکن صحیح مسلم والی حدیث آپ ابھی اوپر چڑھ چکے ہیں کہ دوسرے کو قتل کر ڈالو۔ اس لیے صحیح مذہب وہی ہے جو پہلے بیان ہوا] امام الحرمین نے استاذ ابواسحاق رحمہ اللہ سے بھی حکایت کی ہے کہ وہ دو اور زیادہ اماموں کا مقرر کرنا اس وقت جائز جانتے ہیں جب مسلمانوں کی سلطنت بہت بڑی وسیع ہو اور چاروں طرف پھیلی ہوئی ہو اور دو اماموں کے درمیان کئی ملکوں کا فاصلہ ہو۔ امام الحرمین اس میں تردد میں ہیں، خلفائے بنی عباس کا عراق میں اور خلفائے بنی فاطمہ کا مصر میں اور خاندان بنی امیہ کا مغرب میں میرے خیال سے یہی حال تھا۔ اس کی بسط و تفصیل ان شاءاللہ کتاب الاحکام کی کسی مناسب جگہ ہم کریں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا شروع في ابتداء خلق آدم عليه السلام أبي البشر وفضلهِ، وأن الله تعالى حين أراد خلقه أخبر الملائكة بذلك، وأن الله مستخلفه في الأرض، فقالت الملائكة عليهم السلام: أتجعل فيها من يفسد فيها بالمعاصي ويسفك الدماء، وهذا تخصيص بعد تعميم؛ لبيان شدة مفسدة القتل، وهذا بحسب ظنهم أن الخليفةَ المَجْعُول في الأرض سيحْدُثُ منه ذلك، فنزهوا الباري عن ذلك وعظموه، وأخبروا أنهم قائمون بعبادة الله على وجه خالٍ من المفسدة فقالوا: {ونحن نسبح بحمدك}؛ أي: ننزهك التنزيه اللائق بحمدك وجلالك {ونقدس لك}؛ يحتمل أن معناها ونقدسك؛ فتكون اللام مفيدة للتخصيص والإخلاص، ويحتمل أن يكون: ونقدس لك أنفسنا؛ أي: نطهرها بالأخلاق الجميلة؛ كمحبة الله، وخشيته، وتعظيمه، ونطهرها من الأخلاق الرذيلة {قال}؛ الله للملائكة: {إني أعلم}؛ من هذا الخليفة {ما لا تعلمون}؛ لأن كلامكم بحسب ما ظننتم، وأنا عالم بالظواهر والسرائر، وأعلم أن الخير الحاصل بخلق هذا الخليفة أضعاف أضعاف ما في ضمن ذلك من الشر، فلو لم يكن في ذلك، إلا أن الله تعالى أراد أن يجتبي منهم الأنبياء والصديقين والشهداء والصالحين، ولتظهر آياته للخلق ، ويحصل من العبوديات التي لم تكن تحصل بدون خلق هذا الخليفة كالجهاد وغيره، وليظهر ما كمن في غرائز المكلفين من الخير والشر بالامتحان، وليتبين عدوه من وليه وحزبه من حربه، وليظهر ما كَمُن في نفس إبليس من الشر الذي انطوى عليه واتصف به، فهذه حكم عظيمة يكفي بعضها في ذلك.