پھر جب تم اپنے حج کے احکام پورے کر لو تو اللہ کو یاد کرو، اپنے باپ دادا کو تمھارے یاد کرنے کی طرح، بلکہ اس سے بڑھ کر یاد کرنا، پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
En
پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں
پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیاده بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے احوال کی خبر دی اور آگاہ فرمایا کہ تمام مخلوق اپنے اپنے مطالبات کا سوال کرتی ہے اور جو چیز ان کے لیے ضرر رساں ہے اس سے بچنے کی دعا مانگتی ہے۔ البتہ ان کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَاۤاٰتِنَافِیالدُّنْیَا ﴾”اے ہمارے رب! دے تو ہمیں دنیا میں“ یعنی وہ دنیا کے ساز و سامان اور اس کی شہوات کا سوال کرتے ہیں۔ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا، کیونکہ آخرت میں ان کو کوئی رغبت نہیں اور انھوں نے اپنی ہمت اور ارادے دنیا ہی پر مرکوز کر دیے ہیں۔
ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا اور آخرت کے تمام امور میں اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھتے ہیں۔
ان دونوں گروہوں کے لیے اپنے اپنے اعمال اور اپنے اپنے اکتساب کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں ان کے اعمال، ان کے ارادوں اور ان کی نیتوں کی ایسی جزا دے گا جو عدل اور فضل کے دائرے میں ہو گی، اس پر اس کی کامل ترین حمد و ثنا بیان کی جائے گی۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی دعا سنتا ہے، خواہ وہ کافر ہو، مسلمان ہو یا فاسق و فاجر، البتہ کسی کی دعا قبول ہونے کے معنی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اس نے (اس کی دعا قبول کر کے) اسے اپنے قرب سے نواز دیا ہے۔ البتہ آخرت کی بھلائی اور دینی امور میں دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب کی علامت ہے۔ وہ بھلائی جو دنیا میں طلب کی جاتی ہے، اس میں ہر وہ بھلائی شامل ہے جس کا ہونا بندے کو پسند ہو۔ جیسے رزق کی کشائش، نیک بیوی، نیک اولاد جسے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، آرام اور راحت، علم نافع، اعمال صالحہ اور دیگر پسندیدہ اور مباح چیزیں اور آخرت کی بھلائی، قبر، حساب کتاب اور آگ کے عذاب سے سلامتی، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے کامیاب ہونے اور رب رحیم کے قرب کا نام ہے۔ اس اعتبار سے یہ دعا سب سے جامع اور سب سے کامل دعا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے تمام دعاؤں پر ترجیح دی جائے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہی دعا مانگا کرتے تھے اور اس دعا کی ترغیب دیا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر تعالى عن أحوال الخلق، وأن الجميع يسألونه مطالبهم، ويستدفعونه ما يضرهم، ولكن مقاصدهم تختلف، فمنهم {من يقول ربنا آتنا في الدنيا}؛ أي: يسأله من مطالب الدنيا ما هو من شهواته، وليس له في الآخرة من نصيب لرغبته عنها، وقصر همته على الدنيا، ومنهم من يدعو الله لمصلحة الدارين، ويفتقر إليه في مهمات دينه ودنياه، وكل من هؤلاء وهؤلاء لهم نصيب من كسبهم وعملهم، وسيجازيهم تعالى على حسب أعمالهم وهماتهم ونياتهم جزاءً دائراً بين العدل والفضل، يحمد عليه أكمل حمد وأتمه.
وفي هذه الآية دليل على أن الله يجيب دعوة كل داعٍ مسلماً أو كافراً أو فاسقاً، ولكن ليست إجابته دعاء من دعاه دليلاً على محبته له وقربه منه إلا في مطالب الآخرة ومهمات الدين، والحسنة المطلوبة في الدنيا، يدخل فيها كل ما يحسن وقعه عند العبد من رزق هني واسع حلال، وزوجة صالحة، وولد تقر به العين، وراحة، وعلم نافع، وعمل صالح، ونحو ذلك من المطالب المحبوبة والمباحة، وحسنة الآخرة هي السلامة من العقوبات في القبر والموقف والنار، وحصول رضا الله، والفوز بالنعيم المقيم، والقرب من الرب الرحيم، فصار هذا الدعاء أجمع دعاء وأكمله وأولاه بالإيثار، ولهذا كان النبي - صلى الله عليه وسلم -، يكثر من الدعاء به والحث عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔