تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ذکر الٰہی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں، ایسے لوگ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے (دیکھیے الشوریٰ: ۲۰) اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں، اصل کامیابی انھی لوگوں کی ہے۔ (رازی، شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں نیک بیوی، دنیا میں غلبہ، خلافتِ اسلامی کا قیام، وسعتِ رزق، دین و دنیا کا علم اور اللہ کے احکام کے مطابق چلنے کی توفیق، الغرض سب نیک اعمال شامل ہیں اور آخرت کی بھلائی میں دوزخ سے نجات، جنت، رضائے الٰہی کا حصول، حساب میں آسانی اور اللہ تعالیٰ کا دیدار وغیرہ شامل ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اکثر دعا یہ تھی: [اَللَّہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ] ”اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ [بخاری، الدعوات، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ربنا آتنا…: ۶۳۸۹۔ مسلم: ۲۶۹۰] صحیح مسلم میں ہے: ”انس رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی دعا کرنا چاہتے تو یہ (مذکورہ بالا) دعا کرتے اور جب کوئی اور دعا کرنا چاہتے تو اس میں یہ دعا بھی کرتے۔“ خلاصہ یہ کہ یہ ایک نہایت جامع دعا ہے، کئی ایک احادیث میں اس کی ترغیب آئی ہے۔ طواف کے وقت رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان بھی یہ دعا مسنون ہے۔ [أبو داوٗد، المناسک، باب الدعاء فی الطواف، ۱۸۹۲ و قال الألبانی حسن]
اللہ تعالیٰ نے یہاں دو قسم کے لوگ ذکر فرمائے ہیں، صرف دنیا کی بھلائی طلب کرنے والے اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنے والے، تیسری قسم کے لوگ یعنی صرف آخرت کی بھلائی طلب کرنے والے، جو دنیا کی بھلائی نہ مانگتے ہوں وہ ذکر نہیں فرمائے، کیونکہ اسلام ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کے لیے دنیا ترک کرنا پسند نہیں کرتا، نہ دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کشی کی اجازت دیتا ہے۔ جب سے مسلمانوں میں ہندو سادھوؤں اور نصرانی راہبوں کی تقلید میں دنیا کے ترک کا رجحان پیدا ہوا تو انھوں نے جہاد چھوڑا، دنیاوی علوم سے کنارہ کش ہوئے اور ہر چیز میں غیروں کے غلام بن گئے۔ کفار کو ان کے تصوف کے سلسلوں سے کوئی تکلیف ہے، نہ تصور شیخ سے اور نہ خانقاہی نظام سے، کیونکہ اس سے غلامی کی خُو مزید پختہ ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، انھیں اپنے ملکوں میں آمد و رفت کی ہر سہولت مہیا کرتے ہیں، مگر اسلام اور مسلمانوں کی عزت کے ضامن جہاد یا خلافت کا نام لینے والوں پر آخری حد تک دنیا تنگ کر دینے میں کمی نہیں کرتے۔ پھر کیا حال ہو گا جب کہا جائے:
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے؟
اگر کہا جائے شاعر کی مراد فقط رضائے الٰہی کا حصول ہے تو اللہ کی رضا تو دنیا اور آخرت دونوں کی طلب اور ان کے لیے محنت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی ان دونوں کی طلب بلکہ ان کا ہر عمل ہی رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ «وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ» یہ اس لیے فرمایا کہ آخرت میں بھلائی آگ کے کچھ عذاب کے بعد بھی ہو سکتی ہے، اس لیے اس سے بچنے کی الگ دعا مانگی۔ (ابن عاشور)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لیے او اشد پر زبر تمیز کی بنا پر لائی گئی ہے، یعنی اس طرح اللہ کی یاد کرو جس طرح اپنے بڑوں پر فخر کیا کرتے تھے۔ او سے یہاں خبر کی مثلیت کی تحقیق ہے جیسے «او اشد قسوۃ» [2-البقرة:74] میں اور «او اشد خشیۃ» [4-النساء:77] میں اور «او یزیدون» [37-الصافات:147] میں اور «او ادنیٰ» [53-النجم:9] میں، ان تمام مقامات میں لفظ «”أَوْ“» ہرگز ہرگز شک کے لیے نہیں ہے بلکہ «”فجر عنہ“» کی تحقیق کے لیے ہے، یعنی وہ ذکر اتنا ہی ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
پھر اس کے بعد عذاب جہنم سے نجات چاہنا اس سے یہ مطلب ہے کہ ایسے اسباب اللہ تعالیٰ مہیا کر دے مثلاً حرام کاریوں سے اجتناب گناہ اور بدیوں کا ترک وغیرہ، قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جسے شکر گزاروں اور ذکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا جسم مل گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی اور عذاب سے نجات پا گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:542/2] بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو بکثرت پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4522]
اس حدیث میں ہے ”ربنا“ سے پہلے ”اللہم“ بھی ہے، قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کس دعا کو پڑھتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہی دعا بتائی [مسند احمد:101/3:صحیح] سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب خود بھی کبھی دعا مانگتے اس دعا کو نہ چھوڑتے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ کہا کہ آپ کے یہ بھائی چاہتے ہیں کہ آپ ان کے لیے دعا کریں آپ نے یہی دعا «اللہم رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھی پھر کچھ دیر بیٹھے اور بات چیت کرنے کے بعد جب وہ جانے لگے تو پھر دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا کیا تم ٹکڑے کرانا چاہتے ہو اس دعا میں تو تمام بھلائیاں آ گئیں [ابن ابی حاتم]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلمان بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے دیکھا کہ وہ بالکل دبلا پتلا ہو رہا ہے صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کوئی دعا بھی اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے؟ اس نے کہا ہاں میری یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ جو عذاب تو مجھے آخرت میں کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہی کر ڈال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ کسی میں ان کے برداشت کی طاقت بھی ہے؟ تو نے یہ دعا «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» کیوں نہ پڑھی؟ چنانچہ بیمار نے اب سے اسی دعا کو پڑھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس شفاء دے دی۔ [مسند احمد:107/3:صحیح] رکن نبی حج اور رکن اسود کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:1892، قال الشيخ الألباني:حسن] لیکن اس کی سند میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ، آپ فرماتے ہیں کہ میں جب کبھی رکن کے پاس سے گزرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں فرشتہ ہے اور وہ آمین کہہ رہا ہے تم جب کبھی یہاں سے گزرو تو دعا آیت «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھا کرو۔ [میزان الاعتدال:4602:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر تعالى عن أحوال الخلق، وأن الجميع يسألونه مطالبهم، ويستدفعونه ما يضرهم، ولكن مقاصدهم تختلف، فمنهم {من يقول ربنا آتنا في الدنيا}؛ أي: يسأله من مطالب الدنيا ما هو من شهواته، وليس له في الآخرة من نصيب لرغبته عنها، وقصر همته على الدنيا، ومنهم من يدعو الله لمصلحة الدارين، ويفتقر إليه في مهمات دينه ودنياه، وكل من هؤلاء وهؤلاء لهم نصيب من كسبهم وعملهم، وسيجازيهم تعالى على حسب أعمالهم وهماتهم ونياتهم جزاءً دائراً بين العدل والفضل، يحمد عليه أكمل حمد وأتمه.
وفي هذه الآية دليل على أن الله يجيب دعوة كل داعٍ مسلماً أو كافراً أو فاسقاً، ولكن ليست إجابته دعاء من دعاه دليلاً على محبته له وقربه منه إلا في مطالب الآخرة ومهمات الدين، والحسنة المطلوبة في الدنيا، يدخل فيها كل ما يحسن وقعه عند العبد من رزق هني واسع حلال، وزوجة صالحة، وولد تقر به العين، وراحة، وعلم نافع، وعمل صالح، ونحو ذلك من المطالب المحبوبة والمباحة، وحسنة الآخرة هي السلامة من العقوبات في القبر والموقف والنار، وحصول رضا الله، والفوز بالنعيم المقيم، والقرب من الرب الرحيم، فصار هذا الدعاء أجمع دعاء وأكمله وأولاه بالإيثار، ولهذا كان النبي - صلى الله عليه وسلم -، يكثر من الدعاء به والحث عليه.