تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 199

ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۹۹﴾
پھر اس جگہ سے واپس آئو جہاں سے سب لوگ واپس آئیں اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے
En
پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے طلب بخشش کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّؔ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ پھر تم وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں یعنی مزدلفہ سے۔ اور یہ وہ عمل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر اب تک چلا آرہا ہے۔ اور اس افاضہ یعنی واپسی کا مقصد ان کے ہاں معروف تھا اور وہ ہے رمی جمار، قربانیوں کو ذبح کرنا، طواف، سعی، تشریق کی راتوں میں منی میں شب بسری اور باقی مناسک کی تکمیل۔ چونکہ اس افاضہ کا مقصد وہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ مذکورہ امور حج کے آخری مناسک ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان سے فارغ ہو کر استغفار اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اس لیے کہ استغفار کا مقصد یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی میں بندے کی طرف سے جو خلل اور کوتاہی واقع ہوئی ہے استغفار سے اس کی تلافی ہو جائے اور اللہ کا ذکر، یہ اللہ کا اس انعام پر شکر ہے جو اس نے عظیم عبادت اور بھاری احسان کی توفیق سے نواز کر کیا۔
بندۂ مومن کے لیے مناسب بھی یہی ہے کہ جب وہ اپنی عبادت سے فارغ ہو تو اپنی تقصیر اور کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے اور عبادت کی توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے، نہ کہ اس شخص کی مانند ہو جو یہ سمجھتا ہے کہ اس نے عبادت کی تکمیل کر کے رب پر احسان کیا ہے اور اس عبادت نے اس کے مقام و مرتبہ کو بہت بلند کر دیا ہے۔ یہ رویہ یقیناً اللہ کی ناراضی کا باعث اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے فعل (عبادت) کو ٹھکرا دیا جائے جیسے عبادت کی پہلی صورت اس بات کی مستحق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرے اور بندے کو دوسرے اعمال خیر کی توفیق عطا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس}؛ أي: ثم أفيضوا من مزدلفة من حيث أفاض الناس من لدن إبراهيم عليه السلام إلى الآن، والمقصود من هذه الإفاضة كان معروفاً عندهم، وهو رمي الجمار، وذبح الهدايا، والطواف والسعي والمبيت بمنى ليالي التشريق، وتكميل باقي المناسك، ولما كانت هذه الإفاضة يقصد بها ما ذكر والمذكورات آخر المناسك، أمر تعالى عند الفراغ منها باستغفاره والإكثار من ذكره، فالاستغفار للخلل الواقع من العبد في أداء عبادته وتقصيره فيها، وذكر الله شكر الله على إنعامه عليه بالتوفيق لهذه العبادة العظيمة والمنة الجسيمة، وهكذا ينبغي للعبد كلما فرغ من عبادة أن يستغفر الله عن التقصير، ويشكره على التوفيق، لا كمن يرى أنه قد أكمل العبادة، ومنَّ بها على ربه، وجعلت له محلاًّ ومنزلة رفيعة، فهذا حقيق بالمقت ورد العمل، كما أن الأول حقيق بالقبول والتوفيق لأعمال أخر.