تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 161

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃُ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾ۙ
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کی اور فرشتوں اور لوگوں کی، سب کی لعنت ہے۔ En
جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی لعنت
En
یقیناً جو کفار اپنے کفر میں ہی مرجائیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہا وہ شخص جو اپنے کفر پر مصر ہے، اس نے اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کیا، نہ اس کی طرف پلٹا اور نہ اس نے توبہ کی اور حالت کفر ہی میں مر گیا ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ تو یہی لوگ ہیں جن پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس لیے کہ جب کفر، ان کا وصف ثابت بن گیا تو ان پر لعنت بھی ان کا وصف ثابت بن گئی جو کبھی زائل نہیں ہوگی۔ کیونکہ حکم وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے اپنی علت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ (یعنی علت ہو گی تو حکم ہو گا، علت نہیں ہو گی تو حکم بھی نہیں ہو گا)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما من كفر واستمر على كفره حتى مات لم يرجع إلى ربه ولم ينب إليه ولم يتب عن قريب فأولئك {عليهم لعنة الله والملائكة والناس أجمعين}؛ لأنه لما صار كفرهم وصفاً ثابتاً صارت اللعنة عليهم وصفاً ثابتاً لا تزول، لأن الحكم يدور مع علته وجوداً وعدماً.