تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 160

اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اَصۡلَحُوۡا وَ بَیَّنُوۡا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۶۰﴾
مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور کھول کر بیان کر دیا تو یہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں اور میں ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہوں۔ En
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں
En
مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مگر جنھوں نے توبہ کی یعنی جو ندامت کے ساتھ گناہ چھوڑ کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے ﴿وَاَصْلَحُوْا اور اپنی حالت درست کرلی۔ یعنی اپنے فاسد عملوں کی اصلاح کر لی۔ پس صرف برے کام کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں، اس کی جگہ اچھے کام کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ کتمان حق کے مرتکب کے لیے بھی صرف یہی کافی نہیں کہ اس نے یہ گناہ چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو بھی ظاہر کرے جس کو اس نے چھپایا تھا۔ پس یہی وہ شخص ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے۔ کیونکہ اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کا سبب لے کر توبہ کے لیے حاضر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ﴿ التَّوَّابُ بڑا معاف کرنے والا۔ ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں کے ساتھ، گناہ کے بعد عفوودرگزر سے پیش آتا ہے جب وہ توبہ کر لیتے ہیں اور جب بندے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو روک لینے کے بعد، ان پر پھر احسان و نعمتوں کی بارش کر دیتا ہے۔ ﴿ الرَّحِیْمُ اس ہستی کو کہتے ہیں جو عظیم اور بے پایاں رحمت سے متصف ہو جو ہر چیز کو محیط ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے انھیں توبہ اور انابت کی توفیق بخشی، پس انھوں نے توبہ کی اور وہ اس کی طرف پلٹے۔ پھر اس نے ان پر رحم کیا یعنی اپنے لطف و کرم سے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ یہ اس شخص کا حکم ہے جو گناہوں سے توبہ کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلا الذين تابوا}؛ أي: رجعوا عما هم عليه من الذنوب ندماً وإقلاعاً وعزماً على عدم المعاودة {وأصلحوا}؛ ما فسد من أعمالهم؛ فلا يكفي ترك القبيح حتى يحصل فعل الحسن، ولا يكفي ذلك في الكاتم أيضاً حتى يبين ما كتمه ويبدي ضد ما أخفى فهذا يتوب الله عليه لأن توبة الله غير محجوب عنها، فمن أتى بسبب التوبة تاب الله عليه لأنه {التواب}؛ أي: الرجاع على عباده بالعفو والصفح بعد الذنب إذا تابوا وبالإحسان والنعم بعد المنع إذا رجعوا {الرحيم}؛ الذي اتصف بالرحمة العظيمة التي وسعت كل شيء، ومن رحمته أن وفقهم للتوبة والإنابة فتابوا وأنابوا ثم رحمهم بأن قبل ذلك منهم لطفاً وكرماً، هذا حكم التائب من الذنب.