تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 162

خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنۡہُمُ الۡعَذَابُ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۱۶۲﴾
ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔ En
وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی
En
جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے۔ یعنی وہ لعنت یا عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لعنت اور عذاب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ فرمایا: ﴿ لَایُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ اور ان پر عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی بلکہ ان کو سخت اور دائمی عذاب دیا جائے گا ﴿ وَلَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی کیونکہ مہلت کا وقت تو دنیا کی زندگی تھی جو گزر گئی اور ان کے پاس کوئی عذر بھی نہیں ہو گا جو وہ پیش کر سکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{خالدين فيها}؛ أي: في اللعنة أو في العذاب وهما متلازمان {لا يخفف عنهم العذاب}؛ بل عذابهم دائم شديد مستمر {ولا هم ينظرون}؛ أي: يمهلون لأن وقت الإمهال وهو الدنيا قد مضى، ولم يبق لهم عذر فيعتذرون.