تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ خٰؔلِدِیْنَفِیْهَا ﴾”وہ ہمیشہ اس (لعنت) میں رہیں گے۔“ یعنی وہ لعنت یا عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ لعنت اور عذاب دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ فرمایا: ﴿ لَایُخَفَّفُعَنْهُمُالْعَذَابُ ﴾”اور ان پر عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی“ بلکہ ان کو سخت اور دائمی عذاب دیا جائے گا ﴿ وَلَاهُمْیُنْظَرُوْنَ ﴾”اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی“ کیونکہ مہلت کا وقت تو دنیا کی زندگی تھی جو گزر گئی اور ان کے پاس کوئی عذر بھی نہیں ہو گا جو وہ پیش کر سکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{خالدين فيها}؛ أي: في اللعنة أو في العذاب وهما متلازمان {لا يخفف عنهم العذاب}؛ بل عذابهم دائم شديد مستمر {ولا هم ينظرون}؛ أي: يمهلون لأن وقت الإمهال وهو الدنيا قد مضى، ولم يبق لهم عذر فيعتذرون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔