اور اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے بھی۔ اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، تو تم ہرگز فوت نہ ہونا مگر اس حال میں کہ تم فرماں بردار ہو۔
En
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
فرمایا: ﴿یٰبَنِیَّاِنَّاللّٰهَاصْطَفٰىلَكُمُالدِّیْنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمھارے لیے دین کو چن لیا ہے، لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگ جاؤ، پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کر لو۔ جب تمھیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمھارا اوڑھنا بچھونا ہوں۔ کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يا بني إن الله اصطفى لكم الدين}؛ أي: اختاره، وتخيره لكم رحمة بكم وإحساناً إليكم، فقوموا به، واتصفوا بشرائعه، وانصبغوا بأخلاقه حتى تستمروا على ذلك فلا يأتيكم الموت إلا وأنتم عليه، لأن من عاش على شيء مات عليه، ومن مات على شيء بعث عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔