اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماںبردار بنا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے دکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی نہایت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے
اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور انھوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہو جانا، اعضاء و جوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔
﴿وَاَرِنَامَنَاسِكَنَا﴾ یعنی ارادہ اور مشاہدہ کے ذریعے ہمیں ہمارا طریق عبادت سکھا۔ تاکہ یہ زیادہ مؤثر ہو۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ مناسک سے مراد تمام اعمال حج ہوں۔ جیسا کہ اس معنیٰ پر آیت کریمہ کا سیاق و سباق دلالت کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز مراد ہو اور وہ سارا دین اور تمام عبادات ہیں۔۔۔ جیسا کہ عموم لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ (اَلنُّسُکُ) کا معنی عبادت کرنا ہے، پھر عرف کے لحاظ سے حج کی عبادات کے لیے اس لفظ کا استعمال غالب آ گیا۔ پس ان کی دعا کا حاصل علم نافع اور عمل صالح کی توفیق مانگنا ہے۔
بندہ، جیسا بھی ہو، اس سے تقصیر ہو ہی جاتی ہے اس لیے وہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے، چنانچہ دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿وَتُبْعَلَیْنَا١ۚاِنَّكَاَنْتَالتَّوَّابُالرَّحِیْمُ﴾”اے اللہ ہم پر رجوع فرما، تو بہت رجوع کرنے والا بہت مہربان ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ودعوا لأنفسهما وذريتهما بالإسلام الذي حقيقته خضوع القلب وانقياده لربه المتضمن لانقياد الجوارح {وأرنا مناسكنا}؛ أي: علمناها على وجه الإراءة والمشاهدة ليكون أبلغ، يحتمل أن يكون المراد بالمناسك أعمال الحج كلها كما يدل عليه السياق والمقام ويحتمل أن يكون المراد ما هو أعم من ذلك وهو الدين كله والعبادات كلها كما يدل عليه عموم اللفظ، لأن النسك التعبد، ولكن غلب على متعبدات الحج تغليباً عرفياً، فيكون حاصل دعائهما يرجع إلى التوفيق للعلم النافع والعمل الصالح.
ولما كان العبد مهما كان لا بد أن يعتريه التقصير ويحتاج إلى التوبة قالا: {وتب علينا إنك أنت التواب الرحيم}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔