تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 108

اَمۡ تُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَسۡـَٔلُوۡا رَسُوۡلَکُمۡ کَمَا سُئِلَ مُوۡسٰی مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَبَدَّلِ الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۱۰۸﴾
یا تم ارادہ رکھتے ہو کہ اپنے رسول سے سوال کرو، جس طرح اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کیے گئے اور جو کوئی ایمان کے بدلے کفر کو لے لے تو بے شک وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ En
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا
En
کیا تم اپنے رسول سے یہی پوچھنا چاہتے ہو جو اس سے پہلے موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے پوچھا گیا تھا؟ (سنو) ایمان کو کفر سے بدلنے واﻻ سیدھی راه سے بھٹک جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اہل ایمان یا یہود کو منع کرتا ہے کہ وہ اپنے رسول سے اس طرح سوال کریں ﴿ كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰؔى مِنْ قَبْلُ جس طرح اس سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا گیا۔ اس سے مراد وہ سوالات ہیں جو بال کی کھال اتارنے اور اعتراض کی خاطر کیے جاتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَسْـَٔؔلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً (النساء: 4؍153) اہل کتاب تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بات کا مطالبہ کر چکے ہیں، کہتے تھے کہ ہمیں اللہ ان ظاہری آنکھوں سے دکھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْـَٔلُوْا عَنْ اَشْیَآءَؔ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ (المائدہ: 5؍101) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں گی۔ لہٰذا اس قسم کے (مذموم) سوالات سے منع کیا گیا ہے۔
رہا رشد و ہدایت اور تحصیل علم کے لیے سوال کرنا تو یہ محمود ہے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے سوالات کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النحل: 16؍43) اگر تم نہیں جانتے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو اہل کتاب ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے سوالات کو برقرار رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْ٘خَمْرِ وَالْ٘مَیْسِرِ (البقرہ: 2؍219) وہ تجھ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ نیز فرمایا: ﴿وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْ٘یَتٰمٰى (البقرہ: 2؍220) وہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں اور اس قسم کی دیگر آیات۔
چونکہ ممنوعہ سوالات مذموم ہوتے ہیں اس لیے بعض دفعہ سوال پوچھنے والے کو کفر کی حدود میں داخل کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْ٘كُ٘فْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ جس نے ایمان کے بدلے کفر لے لیا پس اس نے سیدھا راستہ گم کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ينهى الله المؤمنين أو اليهود بأن يسألوا رسولهم، {كما سئل موسى من قبل}؛ والمراد بذلك أسئلة التعنت والاعتراض، كما قال تعالى: {يسألك أهل الكتاب أن تنزل عليهم كتاباً من السماء فقد سألوا موسى أكبر من ذلك فقالوا أرنا الله جهرة}؛ وقال تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم}؛ فهذه ونحوها هي المنهي عنها.

وأما سؤال الاسترشاد والتعلم فهذا محمود قد أمر الله به كما قال تعالى: {فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون}؛ ويقرهم عليه كما في قوله: {يسألونك عن الخمر والميسر}؛ و {يسألونك عن اليتامى}؛ ونحو ذلك. ولما كانت المسائل المنهي عنها مذمومة قد تصل بصاحبها إلى الكفر قال: {ومن يتبدل الكفر بالإيمان فقد ضل سواء السبيل}.