بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کاش! وہ تمھیں تمھارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں، اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لیے حق خوب واضح ہو چکا۔ سو تم معاف کرو اور درگزر کرو، یہاںتک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
En
بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے
ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰاپنا حکم ﻻئے۔ یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب میں سے بہت سے لوگوں کے حسد کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں ﴿ لَوْیَرُدُّوْنَكُمْمِّنْۢبَعْدِاِیْمَانِكُمْكُفَّارًا﴾”کہ کاش تمھیں تمھارے ایمان کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں۔“ اس کے لیے انھوں نے پوری کوشش اور فریب کاری کے جال بچھائے، مگر ان کے مکر و فریب پلٹ کر انھی پر پڑ گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَقَالَتْطَّآىِٕفَةٌمِّنْاَهْلِالْكِتٰبِاٰمِنُوْابِالَّذِیْۤاُنْزِلَعَلَىالَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَجْهَالنَّهَارِوَاكْ٘فُ٘رُوْۤااٰخِرَهٗلَعَلَّهُمْیَرْجِعُوْنَ﴾ (آل عمران 3؍72) ”اہل کتاب کا ایک گروہ کہتا ہے وہ کتاب جو اہل ایمان پر نازل کی گئی ہے اس پر دن کے پہلے حصے میں ایمان لاؤ اور اس کے آخر میں انکار کر دو، تاکہ وہ اسلام سے باز آ جائیں۔“ یہ ان کا حسد تھا جو ان کے اندر سے پھوٹ رہا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہود کی برائی اور بدخلقی کے مقابلے میں عفو اور درگزر سے کام لینے کا حکم دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔
پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کا حکم دے دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو شفا بخشی۔ چنانچہ اہل ایمان نے ان یہودیوں میں سے جو قتل کےمستحق تھے ان کو قتل کیا، جو قیدی بنائے جا سکے ان کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو ملک بدر کر دیا۔ ﴿ اِنَّاللّٰهَعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍقَدِیْرٌ﴾”یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر عن حسد كثير من أهل الكتاب وأنهم بلغت بهم الحال أنهم ودوا {لو يردونكم من بعد إيمانكم كفاراً}؛ وسعوا في ذلك، وعملوا المكايد، وكيدهم راجع عليهم كما قال تعالى: {وقالت طائفة من أهل الكتاب آمنوا بالذي أنزل على الذين آمنوا وجه النهار واكفروا آخره لعلهم يرجعون}؛ وهذا من حسدهم الصادر من عند أنفسهم، فأمرهم الله بمقابلة من أساء إليهم [غاية الإساءة] بالعفو عنهم والصفح حتى يأتي الله بأمره، ثم بعد ذلك أتى الله بأمره إياهم بالجهاد، فشفى الله أنفس المؤمنين منهم، فقتلوا من قتلوا واسترقوا من استرقوا، وأجلوا من أجلوا، {إن الله على كل شيء قدير}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔