تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 107

اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾
کیا تو نے نہیں جانا کہ اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اللہ کے سوا تمھارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مدد گار۔ En
تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں
En
کیا تجھے علم نہیں کہ زمین و آسمان کا ملک اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرمایا: ﴿ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۰۰اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جب اللہ تعالیٰ تمھارا مالک ہے وہ تمھارے اندر اسی طرح تصرف کرتا ہے جیسے نیکوکار، مہربان آقا اپنی اقدار میں، اپنے احکام میں اور اپنے نواہی میں تصرف کرتا ہے۔ پس جیسے اس پر اپنے بندوں کی بابت تقدیری فیصلے کرنے پر پابندی نہیں ہے اسی طرح اللہ پر ان احکام کے بارے میں بھی اعتراض صحیح نہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں۔ پس بندہ اپنے رب کے امر دینی اور امر تکوینی کا پابند ہے، اسے اعتراض کا کیا حق ہے؟۔
نیز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ولی (کارساز) اور ان کا مددگار ہے۔ پس وہ ان کے لیے منفعت کے حصول میں ان کا والی اور سرپرست ہے۔ اور ضرر کو ان سے دور کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (کارسازی) کا حصہ ہے کہ اس نے ان کے لیے ایسے احکام مشروع کیے، جن کا تقاضا اس کی حکمت اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کرتی ہے۔
جو کوئی اس نسخ میں غور کرتا ہے جو قرآن و سنت میں واقع ہوا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں اللہ کی حکمت ہے اور اس کے بندوں پر رحمت ہے اور اپنے لطف و کرم سے انھیں ان کے مصالح تک ایسے طریقے سے پہنچانا ہے کہ وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ألم تعلم أن الله له ملك السموات والأرض}؛ فإذا كان مالكاً لكم متصرفاً فيكم تصرف المالك البر الرحيم في أقداره وأوامره ونواهيه، فكما أنه لا حجر عليه في تقدير ما يقدره على عباده من أنواع التقادير، كذلك لا يعترض عليه فيما يشرعه لعباده من الأحكام، فالعبد مدبر مسخر تحت أوامر ربه الدينية والقدرية فما له والاعتراض، وهو أيضاً ولي عباده ونصيرهم، فيتولاهم في تحصيل منافعهم، وينصرهم في دفع مضارهم، فمن ولايته لهم، أن يشرع لهم من الأحكام ما تقتضيه حكمته ورحمته بهم.

ومن تأمل ما وقع في القرآن والسنة من النسخ، عرف بذلك حكمة الله، ورحمته عباده، وإيصالهم إلى مصالحهم من حيث لا يشعرون بلطفه.