تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 106

مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۰۶﴾
جو بھی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں، یا اسے بھلا دیتے ہیں، اس سے بہتر، یا اس جیسی (اور) لے آتے ہیں، کیا تو نے نہیں جانا کہ اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے
En
جس آیت کو ہم منسوخ کردیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور ﻻتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

(نَسْخ) کے لغوی معنی نقل کرنا ہیں۔ نسخ کی شرعی حقیقت یہ ہے کہ مکلفین کو کسی ایک شرعی حکم سے کسی دوسرے شرعی حکم کی طرف منتقل کرنا یا اس شرعی حکم کو یکسر ساقط قرار دے دینا۔ یہودی نسخ کا انکار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ نسخ جائز نہیں، حالانکہ نسخ ان کے ہاں تورات میں بھی موجود ہے، ان کا نسخ کو نہ ماننا کفر اور محض خواہش نفس کی پیروی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے نسخ میں پنہاں اپنی حکمت سے آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا نَ٘نْ٘سَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا اس کو بھلاتے ہیں یعنی اپنے بندوں سے فراموش کرا دیتے ہیں اور اس آیت کو ان کے دلوں سے زائل کر دیتے ہیں ﴿نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ تو لاتے ہیں اس سے بہتر یعنی ایسی آیت اس کی جگہ لے آتے ہیں جو تمھارے لیے زیادہ نفع مند ہوتی ہے ﴿ اَوْ مِثْلِهَا یا اس جیسی کوئی اور آیت۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمھارے لیے نسخ (یعنی آیت ناسخہ) کی مصلحت پہلی آیت (یعنی آیت منسوخہ) کی مصلحت سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل، خاص طور پر اس امت پر بہت زیادہ ہے جس پر اس کے دین کو اللہ نے بے حد آسان بنا دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ جو کوئی نسخ میں جرح و قدح کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قدرت میں عیب نکالتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

النسخ هو النقل، فحقيقة النسخ نقل المكلفين من حكم مشروع إلى حكم آخر أو إلى إسقاطه، وكان اليهود ينكرون النسخ ويزعمون أنه لا يجوز، وهو مذكور عندهم في التوراة، فإنكارهم له كفر وهوى محض، فأخبر الله تعالى عن حكمته في النسخ، وأنه ما ينسخ {من آية أو ننسها}؛ أي: ننسها العباد فنزيلها من قلوبهم، {نأت بخير منها}؛ وأنفع لكم، {أو مثلها}؛ فدل على أن النسخ لا يكون لأقل مصلحة لكم من الأول لأن فضله تعالى يزداد خصوصاً على هذه الأمة التي سهل عليها دينها غاية التسهيل، وأخبر أن من قدح في النسخ [فقد] قدح في ملكه وقدرته فقال: {ألم تعلم أن الله على كل شيء قدير}.