تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 98

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ؕ ہَلۡ تُحِسُّ مِنۡہُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَہُمۡ رِکۡزًا ﴿٪۹۸﴾
اور ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کر دیا، کیا تو ان میں سے کسی ایک کو محسوس کرتا ہے، یا ان کی کوئی بھنک سنتا ہے؟ En
اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو
En
ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتیں تباہ کر دی ہیں، کیا ان میں سے ایک کی بھی آہٹ تو پاتا ہے یا ان کی آواز کی بھنک بھی تیرے کان میں پڑتی ہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر ان کو پہلے لوگوں کی، جنھوں نے انبیاء و مرسلین کو جھٹلایا، ہلاکت کا ذکر کر کے ڈرایا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَؔكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَ٘رْنٍ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا۔ یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ جو انبیا کے ساتھ عناد رکھتے اور ان کی تکذیب کرتے تھے۔ جب وہ اپنی سرکشی میں جمے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ ﴿هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَ٘سْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا یہاں (رکز) سے مراد خفیہ آواز ہے یعنی ان لوگوں کے آثار تک باقی نہ رہے۔ بس ان کے قصے باقی رہ گئے جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت ہیں اور ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں جو نصیحت کے متلاشی لوگوں کے لیے نصیحت ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم توعَّدهم بإهلاك المكذِّبين قبلهم، فقال: {وكم أهْلَكْنا قبلَهم من قرنٍ}: من قوم نوح وعاد وثمود وفرعون وغيرهم من المعانِدين المكذِّبين، لما استمرُّوا في طغيانِهِم؛ أهلكهم الله؛ فليس لهم من باقيةٍ. {هل تُحِسُّ منهم من أحدٍ أو تسمعُ لهم رِكْزاً}: والرِّكْزُ: الصوتُ الخفيُّ؛ أي: لم يبقَ منهم عينٌ ولا أثرٌ، بل بقيتْ أخبارُهم عبرةً للمعتبرين، وأسمارُهم عظةً للمتعظين.