ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 98

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ؕ ہَلۡ تُحِسُّ مِنۡہُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَہُمۡ رِکۡزًا ﴿٪۹۸﴾
اور ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کر دیا، کیا تو ان میں سے کسی ایک کو محسوس کرتا ہے، یا ان کی کوئی بھنک سنتا ہے؟ En
اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو
En
ہم نے ان سے پہلے بہت سی جماعتیں تباہ کر دی ہیں، کیا ان میں سے ایک کی بھی آہٹ تو پاتا ہے یا ان کی آواز کی بھنک بھی تیرے کان میں پڑتی ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 98){وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ …:} یہاں گزشتہ آیت میں مذکور سخت جھگڑالو قوم کو ان سے پہلی سخت جھگڑالو قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرکے ڈرایا گیا ہے کہ ہم نے ان سے پہلے ایسی کتنی ہی سخت ضدی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ غور سے دیکھو! ان میں سے کوئی تمھیں کہیں کھٹکتا ہے، یا اس کی بھنک ہی کان میں پڑتی ہے؟ یہی حال اس زمانے کے کافروں کا ہونے والا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

98۔ 1 احساس کے معنی ہیں، حس کے ذریعے سے معلومات حاصل کرنا۔ یعنی کیا تو ان کو آنکھوں سے دیکھ سکتا یا ہاتھوں سے چھو سکتا ہے؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ان کا وجود ہی دنیا میں نہیں ہے کہ تو انھیں دیکھ یا چھو سکے یا دیکھ سکے یا اس کی ہلکی سی آواز ہی تجھے کہیں سے سنائی دے سکے۔ حضرت عمر ؓ کے قبول اسلام کے متعدد اسباب بیان کئے گئے ہیں۔ بیض تاریخ وسیر کی روایتات میں اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر میں سورة طہ کا سننا اور اس سے مثاثر ہونا بھی مذکور ہے۔ (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

98۔ ہم ان سے پہلے کئی قومیں ہلاک کر چکے ہیں۔ کیا آپ ان میں سے کسی کا نشان پاتے ہیں یا ان میں سے کسی کی بھنک بھی آپ کو سنائی دیتی ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر ان کو پہلے لوگوں کی، جنھوں نے انبیاء و مرسلین کو جھٹلایا، ہلاکت کا ذکر کر کے ڈرایا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَؔكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَ٘رْنٍ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا۔ یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ جو انبیا کے ساتھ عناد رکھتے اور ان کی تکذیب کرتے تھے۔ جب وہ اپنی سرکشی میں جمے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ ﴿هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَ٘سْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا یہاں (رکز) سے مراد خفیہ آواز ہے یعنی ان لوگوں کے آثار تک باقی نہ رہے۔ بس ان کے قصے باقی رہ گئے جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت ہیں اور ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں جو نصیحت کے متلاشی لوگوں کے لیے نصیحت ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم توعَّدهم بإهلاك المكذِّبين قبلهم، فقال: {وكم أهْلَكْنا قبلَهم من قرنٍ}: من قوم نوح وعاد وثمود وفرعون وغيرهم من المعانِدين المكذِّبين، لما استمرُّوا في طغيانِهِم؛ أهلكهم الله؛ فليس لهم من باقيةٍ. {هل تُحِسُّ منهم من أحدٍ أو تسمعُ لهم رِكْزاً}: والرِّكْزُ: الصوتُ الخفيُّ؛ أي: لم يبقَ منهم عينٌ ولا أثرٌ، بل بقيتْ أخبارُهم عبرةً للمعتبرين، وأسمارُهم عظةً للمتعظين.