سو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کر دیا ہے، تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوشخبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑالو ہیں۔
En
(اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچا دو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ﴿ لِتُبَشِّرَبِهِالْمُتَّقِیْنَ ﴾ تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں۔ ﴿ وَتُنْذِرَبِهٖقَوْمًالُّدًّا﴾ تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں۔ اس طرح ان پر حجت قائم ہو گی اور ان کے سامنے صراط مستقیم واضح ہو جائے گی۔ تب جو کوئی ہلاک ہو گا تو دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو گا اور جو کوئی زندہ رہے گا تو دلیل کی طاقت سے زندہ رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن نعمتِهِ، وأنَّه يسَّر هذا القرآن الكريم بلسان الرسول محمدٍ صلّى الله عليه وسلّم؛ يسَّر ألفاظه ومعانيه؛ ليحصل المقصودُ منه والانتفاع به؛ {لِتُبَشِّرَ به المتَّقينَ}: بالترغيب في المبشَّر به من الثواب العاجل والآجل، وذِكْر الأسباب الموجبة للبشارة، {وتُنذِرَ به قوماً لُدًّا}؛ أي: شديدين في باطلهم، أقوياء في كفرهم، فتنذِرَهم، فتقوم عليهم الحجَّة، وتتبيَّن لهم المحجَّة، فيهلِك مَن هَلَك عن بيِّنة، ويحيا مَن حيَّ عن بيِّنة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔