تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 96

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ لَہُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا ﴿۹۶﴾
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے عنقریب ان کے لیے رحمان عظیم محبت پیدا کر دے گا۔ En
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا ان کی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کردے گا
En
بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لیے اللہ رحمٰن محبت پیدا کردے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ان بندوں پر انعام ہے جنھوں نے ایمان و عمل صالح کو جمع کیا… کہ وہ ان کے لیے اپنے اولیاء اور زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اور مودت ڈال دیتا ہے۔ جب ان کے بارے میں دلوں میں محبت ہوجاتی ہے تو ان کے اکثر معاملات ان کے لیے آسان ہوجاتے ہیں اور ان کو بھلائی، دعائیں، راہنمائی اور امامت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے ایک صحیح حدیث میں وارد ہے جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو پکار کر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل آسمان والوں کو پکار کر کہتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، اس لیے تم بھی اسے محبوب رکھو، آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین والوں میں اسے قبولیت عطا کی جاتی ہے(صحیح البخاري، الادب، باب المقۃ من اللہ تعالیٰ، ح:6040 و صحیح مسلم، البرو الصلۃ، باب اذا احب اللہ عبدا…، ح:2637) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے زمین و آسمان کے رہنے والوں کے دلوں میں محبت اس لیے پیدا کی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء اور محبوب لوگوں کے نزدیک ان کو محبوب بنا دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا من نعمه على عباده الذين جمعوا بين الإيمان والعمل الصالح: أنْ وَعَدَهُم أنْ يَجْعَلَ لهم ودًّا؛ أي: محبة ووداداً في قلوب أوليائِهِ وأهل السماء والأرض، وإذا كان لهم في القلوب ودٌّ؛ تيسَّر لهم كثيرٌ من أمورهم، وحصل لهم من الخيرات والدَّعوات والإرشاد والقبول والإمامة ما حَصَلَ، ولهذا ورد في الحديث الصحيح: «إنَّ الله إذا أحبَّ عبداً؛ نادى جبريلَ: إنِّي أحبُّ فلاناً؛ فأحبَّه. فيحبُّه جبريل، ثم ينادي في أهل السماء: إنَّ الله يحبُّ فلاناً؛ فأحبُّوه، فيحبُّه أهل السماء، ثم يوضَع له القَبول في الأرض» وإنَّما جَعَلَ الله لهم وُدًّا لأنه ودُّوه، وأحبُّوه، فودَّدهم إلى أوليائِهِ وأحبابِهِ.