تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 95

وَ کُلُّہُمۡ اٰتِیۡہِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَرۡدًا ﴿۹۵﴾
اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آنے والا ہے۔ En
اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے
En
یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَؔكُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حساب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہو گی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزا بھی بری ہو گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُ٘رَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ (الانعام:6؍94) تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمھیں اکیلا پیدا کیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكلُّهم آتيه يوم القيامةِ فَرْداً}؛ أي: لا أولاد ولا مال ولا أنصار، ليس معه إلاَّ عمله، فيجازيه الله ويوفِّيه حسابه، إن خيراً؛ فخير، وإن شرًّا فشرٌّ؛ كما قال تعالى: {ولقد جِئْتُمونا فُرادى كما خَلَقْناكم أوَّلَ مَرَّةٍ}.