تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 92

وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لِلرَّحۡمٰنِ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ﴿ؕ۹۲﴾
حالانکہ رحمان کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔ En
اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے
En
شان رحمٰن کے ﻻئق نہیں کہ وه اوﻻد رکھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جبکہ حال یہ ہے ﴿مَا یَنْۢ٘بَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے ﴿ اَنْ یَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا کہ وہ اولاد بنائے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لیے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جبکہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والحال أنه {ما يَنبغي}؛ أي: لا يليق ولا يكون {للرحمن أنْ يتَّخِذَ ولداً}: وذلك لأنَّ اتِّخاذه الولد يدلُّ على نقصه واحتياجه، وهو الغنيُّ الحميدُ، والولد أيضاً من جنس والدِهِ، والله تعالى لا شبيه له ولا مثل ولا سميَّ.