تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 93

اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا ﴿ؕ۹۳﴾
آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔ En
تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے
En
آسمان وزمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنْ كُ٘لُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں۔ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنْ كلُّ مَن في السمواتِ والأرْضِ إلاَّ آتي الرحمن عبداً}؛ أي: ذليلاً منقاداً غير متعاصٍ ولا ممتنع، الملائكة والإنس والجنُّ وغيرهم، الجميع مماليك متصرَّف فيهم، ليس لهم من الملك شيءٌ، ولا من التدبير شيءٌ؛ فكيف يكون له ولدٌ وهذا شأنه وعظمة ملكه؟!