تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنْكُ٘لُّمَنْفِیالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِاِلَّاۤاٰتِیالرَّحْمٰنِعَبْدًا﴾”آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں۔“ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے… جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنْ كلُّ مَن في السمواتِ والأرْضِ إلاَّ آتي الرحمن عبداً}؛ أي: ذليلاً منقاداً غير متعاصٍ ولا ممتنع، الملائكة والإنس والجنُّ وغيرهم، الجميع مماليك متصرَّف فيهم، ليس لهم من الملك شيءٌ، ولا من التدبير شيءٌ؛ فكيف يكون له ولدٌ وهذا شأنه وعظمة ملكه؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔