تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 88

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحۡمٰنُ وَلَدًا ﴿ؕ۸۸﴾
اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے۔ En
اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے
En
ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمٰن نے بھی اوﻻد اختیار کی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپنا بیٹا بنایا ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں ﴿ الْ٘مَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ (التوبۃ:9؍30) مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہودی کہتے ہیں ﴿ عُزَیْرُ ِ۟ ابْنُ اللّٰهِ (التوبۃ:9؍30) عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور مشرکین کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا تقبيحٌ وتشنيعٌ لقول المعاندين الجاحدين، الذين زعموا أن الرحمن اتَّخذَ ولداً؛ كقول النصارى: المسيح ابن الله، واليهود: عزير ابن الله، والمشركين: الملائكة بنات الله؛ تعالى الّله عن قولِهِم علوًّا كبيراً.