تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 87

لَا یَمۡلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ۸۷﴾
وہ سفارش کے مالک نہ ہوں گے مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔ En
(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو
En
کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ یعنی وہ سفارش کے مالک ہوں گے نہ انھیں سفارش کا کوئی اختیار ہو گا۔ تمام تر سفارش کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہو گا۔ ﴿ قُ٘لْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا (الزمر:39؍44) کہہ دیجیے سفارش سب اللہ کے لیے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا ہے کہ سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا کر اس سے کوئی عہد نہیں لیا… ورنہ وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے اور اس کو سفارش حاصل ہو گی، جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَ٘ضٰى (الانبیاء:21؍28) وہ اس کے پاس کسی کی سفارش نہیں کر سکتے مگر اس شخص کی جس سے وہ (اللہ تعالیٰ) راضی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان باللہ اور اپنے رسولوں کی اتباع کو عہد قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں اور اپنے انبیاء و رسل کی زبان پر عہد کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جزائے جمیل عطا کرے گا جو انبیاء و رسل کی اتباع کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {لا يملكون الشفاعةَ}؛ أي: ليست الشفاعة ملكهم ولا لهم منها شيء، وإنَّما هي لله تعالى، {قل لله الشفاعةُ جميعاً}، وقد أخبر أنَّه لا تنفعُهم شفاعةُ الشافعين؛ لأنَّهم لم يتَّخذوا عنده عهداً بالإيمان به وبرسله، وإلاَّ؛ فمن اتَّخذ عنده عهداً، فآمن به وبرسله، واتَّبعهم؛ فإنَّه ممَّن ارتضاه الله وتحصُلُ له الشفاعة؛ كما قال تعالى: {ولا يشفعونَ إلاَّ لِمن ارْتَضى}. وسمى الله الإيمانَ به واتِّباع رسله عهداً؛ لأنَّه عهد في كتبه وعلى ألسنة رسله بالجزاء الجميل لمن اتَّبعهم.