تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 89

لَقَدۡ جِئۡتُمۡ شَیۡئًا اِدًّا ﴿ۙ۸۹﴾
بلاشبہ یقینا تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو۔ En
(ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو
En
یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز ﻻئے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْـًٔؔا یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ ﴿ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف ﴿یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ اس قول سے پھٹ جاتے۔ ﴿وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی۔ ﴿ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہو جاتے۔ ﴿ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا اس بنا پر کہ انھوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لقد جئتُم شيئاً إدًّا}؛ أي: عظيماً وخيماً من عظيم أمره أنَّه: {تكاد السمواتُ}: على عظمتها وصلابتها؛ {يَتَفَطَّرْنَ منه}؛ أي: من هذا القول، {وتنشقُّ الأرض}: منه؛ أي: تتصدَّع وتنفطر، {وتخرُّ الجبال هَدًّا}؛ أي: تندكُّ الجبال {أنْ دَعَوا للرحمن ولداً}؛ أي: من أجل هذه الدعوى القبيحة تكاد هذه المخلوقات أن يكون منها ما ذُكِرَ.