تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 86

وَّ نَسُوۡقُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرۡدًا ﴿ۘ۸۶﴾
اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔ En
اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے
En
اور گناه گاروں کوسخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہے مجرم تو ان کو پیاسا ہی جہنم کی طرف ہانکا جائے گا اور یہ ان کی بدترین حالت ہو گی کہ ان کو انتہائی ذلت و رسوائی کے ساتھ سب سے بڑے قید خانے اور بدترین عذاب میں، یعنی جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ وہ تھکے ماندے سخت پیاسے ہوں گے، وہ مدد کے لیے پکاریں گے مگر ان کی مدد نہ کی جائے گی، وہ دعائیں کریں گے مگر ان کی دعائیں قبول نہ ہوں گی اور وہ سفارش تلاش کریں گے مگر ان کی سفارش نہ کی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما المجرمون؛ فإنَّهم يُساقون {إلى جهنَّم وِرْداً}؛ أي: عطاشاً، وهذا أبشعُ ما يكون من الحالات سوقهم على وجهِ الذُّلِّ والصغار إلى أعظم سجن وأفظع عقوبةٍ، وهو جهنَّم، في حال ظمئهم ونصبهم؛ يستغيثون فلا يُغاثون، ويَدْعونَ فلا يُستجاب لهم، ويستشفعونَ فلا يُشفع لهم.