تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 8

قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ کَانَتِ امۡرَاَتِیۡ عَاقِرًا وَّ قَدۡ بَلَغۡتُ مِنَ الۡکِبَرِ عِتِیًّا ﴿۸﴾
کہا اے میرے رب! میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میری بیوی شروع سے بانجھ ہے اور میں تو بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ گیا ہوں۔ En
انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔ جس حال میں میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں
En
زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، جبکہ میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب ان کے پاس اس مولود کے بارے میں، جس کے لیے انھوں نے دعا مانگی تھی، خوشخبری آ گئی تو انھوں نے اس کو عجیب و غریب سمجھا اور تعجب کرتے ہوئے عرض کی: ﴿ قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُ٘وْنُ لِیْ غُلٰ٘مٌ اے رب! کہاں سے ہوگا میرے لیے لڑکا؟ اور حال یہ ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں بعض ایسے اسباب موجود ہیں جو اولاد کے وجود سے مانع ہیں۔ گویا آپ کی دعا کے وقت آپ کے سامنے یہ مانع مستحضر نہ تھا اور اس کا سبب قلب میں وارد ہونے والے جذبے کی قوت اور بیٹے کی شدید خواہش تھی اور اس حال میں جب آپ کی دعا قبول ہو گئی تو آپ کو تعجب ہوا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ لما جاءته البشارة بهذا المولود الذي طلبه؛ استغربَ وتعجب وقال: {ربِّ أنَّى يكونُ لي غلام}: والحال أنَّ المانع من وجود الولد موجود بي وبزوجتي، وكأنَّه وقتَ دعائه لم يستحضرْ هذا المانع؛ لقوَّة الوارد في قلبه وشدَّة الحرص العظيم على الولد، وفي هذه الحال حين قُبِلَتْ دعوتُه؛ تعجَّب من ذلك.