تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 9

قَالَ کَذٰلِکَ ۚ قَالَ رَبُّکَ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَّ قَدۡ خَلَقۡتُکَ مِنۡ قَبۡلُ وَ لَمۡ تَکُ شَیۡئًا ﴿۹﴾
کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے فرمایا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور یقینا میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا جب کہ تو کچھ بھی نہ تھا۔ En
حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے
En
ارشاد ہوا کہ وعده اسی طرح ہو چکا، تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ پر تو یہ بالکل آسان ہے اور تو خود جبکہ کچھ نہ تھا میں تجھے پیدا کر چکا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ یوں ہی ہوگا، فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے یعنی وہ امر جو عادۃً اور مخلوق میں سنت الٰہی کے مطابق ناممکن ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت تو اسے اسباب کے بغیر وجود میں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے یہ اس کے لیے بہت آسان ہے۔ اس کو وجود میں لانا اس سے زیادہ مشکل نہیں جو اس سے قبل اس کو وجود میں لایا تھا، جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأجابه الله بقوله: {كذلك قال ربُّكَ هو عليَّ هيِّنٌ}؛ أي: الأمر مستغربٌ في العادة، وفي سنة الله في الخليقة، ولكن قدرة الله تعالى صالحةٌ لإيجاده بدون أسبابها؛ فذلك هيِّن عليه، ليس بأصعب من إيجاده قبلُ، ولم يك شيئاً.