تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ خطاب نیک و بد، مومن اور کافر، تمام خلائق کے لیے ہے، خلائق میں کوئی ایسا نہیں ہو گا جو جہنم پر وارد نہ ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ ہے اور اس نے اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے اس کا نفاذ لابدی اور اس کا وقوع حتمی ہے، البتہ وارد ہونے کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ تمام مخلوق جہنم میں حاضر ہو گی حتیٰ کہ تمام لوگ گھبرا اٹھیں گے پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو نجات دے دے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ وارد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔ مگر اہل ایمان پر جہنم کی آگ سلامتی والی اور ٹھنڈی ہو جائے گی۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ”وارد ہونے“ سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو جہنم کے اوپر بنا ہوا ہو گا۔ لوگ اپنے اعمال کی مقدار کے مطابق پل پر سے گزریں گے، بعض لوگ پلک جھپکتے گزر جائیں گے، بعض ہوا کی سی تیزی سے گزریں گے، بعض عمدہ گھوڑوں، عمدہ سواریوں کی طرح اور بعض چلتے ہوئے، بعض گھسٹتے ہوئے گزریں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جن کو اچک کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے تقویٰ کے مطابق معاملہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا خطابٌ لسائر الخلائق؛ بَرِّهم وفاجِرِهم، مؤمنهم وكافرهم؛ أنَّه ما منهم من أحدٍ إلاَّ سيرِدُ النار، حكماً حتَّمه الله على نفسِهِ، وأوعد به عباده؛ فلا بدَّ من نفوذِهِ، ولا محيدَ عن وقوعه. واختُلِفَ في معنى الورود: فقيل: ورودُها حضورُها للخلائق كلِّهم حتى يحصُل الانزعاج من كلِّ أحدٍ، ثم بعدُ يُنَجِّي الله المتَّقين.
وقيل: ورودُها دخولُها، فتكون على المؤمنين برداً وسلاماً. وقيل: الورودُ هو المرور على الصراط الذي هو على متنِ جهنَّم، فيمرُّ الناس على قدرِ أعمالهم؛ فمنهم من يمرُّ كلمح البصر، وكالريح، وكأجاويد الخيل، وكأجاويد الركاب، ومنهم من يسعى، ومنهم يمشي مشياً، ومنهم من يزحفُ زحفاً، ومنهم من يُخْطَف فيلقى في النار؛ كلٌّ بحسب تقواه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔