تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیۡنَ فِیۡہَا جِثِیًّا ﴿۷۲﴾
پھر ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو ڈر گئے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ En
پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے
En
پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا یعنی پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر مامورات کی تعمیل کرتے اور محظورات سے اجتناب کرتے رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ اور چھوڑ دیں گے ہم ظالموں کو۔ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ﴿ فِیْهَا جِثِیًّا اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے۔ یہ سب عذاب ان کے ظلم اور کفر کے سبب سے ہو گا، جہنم میں ہمیشہ رہنا ان کا مقدربن جائے گا، وہ عذاب کے مستحق ہوں گے اور نجات کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ثم ننجِّي الذين اتَّقَوْا}: الّله تعالى بفعل المأمور واجتناب المحظور. {ونَذَرُ الظالمين}: أنفسهم بالكفر والمعاصي {فيها جِثِيًّا}: وهذا بسبب ظلمهم وكفرهم، وجب لهم الخلودُ وحقَّ عليهم العذاب، وتقطَّعت بهم الأسباب.