تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿ثُمَّنُنَجِّیالَّذِیْنَاتَّقَوْا ﴾ یعنی پھر ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر مامورات کی تعمیل کرتے اور محظورات سے اجتناب کرتے رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّنَذَرُالظّٰلِمِیْنَ ﴾”اور چھوڑ دیں گے ہم ظالموں کو۔“ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ﴿ فِیْهَاجِثِیًّا ﴾”اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے۔“ یہ سب عذاب ان کے ظلم اور کفر کے سبب سے ہو گا، جہنم میں ہمیشہ رہنا ان کا مقدربن جائے گا، وہ عذاب کے مستحق ہوں گے اور نجات کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {ثم ننجِّي الذين اتَّقَوْا}: الّله تعالى بفعل المأمور واجتناب المحظور. {ونَذَرُ الظالمين}: أنفسهم بالكفر والمعاصي {فيها جِثِيًّا}: وهذا بسبب ظلمهم وكفرهم، وجب لهم الخلودُ وحقَّ عليهم العذاب، وتقطَّعت بهم الأسباب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔