تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 70

ثُمَّ لَنَحۡنُ اَعۡلَمُ بِالَّذِیۡنَ ہُمۡ اَوۡلٰی بِہَا صِلِیًّا ﴿۷۰﴾
پھر یقینا ہم ان لوگوں کو زیادہ جاننے والے ہیں جو اس میں جھونکے جانے کے زیادہ حق دار ہیں۔ En
اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں
En
پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیاده سزاوار ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور یہ سب کچھ اس کے عدل و حکمت اور اس کے لامحدود علم کے تابع ہے۔ بناء بریں فرمایا: ﴿ ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا یعنی ہمارا علم ہر اس شخص کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو آگ میں جھونکے جانے کا زیادہ مستحق ہے، ہمیں ان کے بارے میں علم ہے اور ہم ان کے اعمال، ان اعمال کے استحقاق اور ان کے عذاب کی مقدار بھی جانتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكل هذا تابعٌ لعدله وحكمته وعلمه الواسع، ولهذا قال: {ثم لنحنُ أعلم بالذين هم أولى بها صِلِيًّا}؛ أي: علمنا محيطٌ بمن هو أولى صِلِيًّا بالنار، وقد علمناهم، وعلمنا أعمالهم واستحقاقها وقسطها من العذاب.