تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 53

وَ وَہَبۡنَا لَہٗ مِنۡ رَّحۡمَتِنَاۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ نَبِیًّا ﴿۵۳﴾
اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی بنا کر عطا کیا۔ En
اور اپنی مہربانی سے اُن کو اُن کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا
En
اور اپنی خاص مہربانی سے اس کے بھائی کو نبی بنا کر عطا فرمایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰؔرُوْنَ نَبِیًّا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انھیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنا دیا… پس ہارون علیہ السلام کی نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون علیہ السلام نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {ووهَبْنا له من رحمتنا أخاه هارونَ نبيًّا}: هذا من أكبر فضائل موسى وإحسانه ونصحِهِ لأخيه هارون: أنَّه سأل ربَّه أن يُشْرِكَه في أمرِهِ وأن يجعلَه رسولاً مثله، فاستجاب الله له ذلك، ووهب له من رحمتِهِ أخاه هارونَ نبيًّا؛ فنبوَّة هارونَ تابعةٌ لنبوَّة موسى عليهما السلام، فساعده على أمرِهِ وأعانه عليه.