تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بلکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی جلیل ترین اور سب سے افضل نوع کے ساتھ خاص فرمایا اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا ان سے کلام کرنا اور انھیں اپنی سرگوشی کے لیے اپنے قریب کرنا۔ انبیاء میں سے اس فضیلت کے ساتھ صرف موسیٰ علیہ السلام کو خاص کیا گیا کہ وہ رحمان کے کلیم ہیں۔ اسی لیے فرمایا: ﴿وَنَادَیْنٰهُمِنْجَانِبِالطُّوْرِالْاَیْمَنِ ﴾ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دائیں جانب سے، جب وہ سفر کر رہے تھے، ہم نے ان کو ندا دی۔ یا (اَلأَیْمن) سے مراد بابرکت ہے یعنی یہ (یُمْنٌ) ”برکت“ سے ہے اور اس معنیٰ پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے۔ ﴿اَنْۢبُوْرِكَمَنْفِیالنَّارِوَمَنْحَوْلَهَا﴾ (النمل:27؍8) ”بابرکت ہے وہ ہستی جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔“
﴿وَقَ٘رَّبْنٰهُنَؔجِیًّا﴾”اور ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کے لیے اپنے قریب کیا۔“ ندا اور مناجات میں فرق یہ ہے، کہ ندا بلند آواز میں ہوتی اور مناجات اس سے کم تر دھیمی آواز میں ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کی تمام انواع… مثلاً: ندا اور مناجات وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے جیسا کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔ اس کے برعکس جہمیہ، معتزلہ اور ان کے ہم مسلک گروہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
بل خصَّه الله من أنواع الوحي بأجلِّ أنواعه وأفضلها، وهو تكليمُه تعالى وتقريبُه مناجياً لله تعالى، وبهذا اختُصَّ من بين الأنبياء بأنَّه كليم الرحمن، ولهذا قال: {ونادَيْناه من جانب الطُّورِ الأيمن}؛ أي: الأيمن من موسى في وقت مسيرِه، أو: الأيمن؛ أي: الأبرك من اليُمْن والبركة، ويدلُّ على هذا المعنى قوله تعالى: {أن بورِكَ مَن في النار ومَنْ حولَها}. {وقرَّبَّناه نَجِيًّا}: والفرق بين النداء والنجاء: أنَّ النداء هو الصوتُ الرفيع، والنجاء ما دون ذلك.
وفي هذا إثبات الكلام لله تعالى وأنواعه من النِّداء والنجاء؛ كما هو مذهبُ أهل السنة والجماعة؛ خلافاً لمن أنكر ذلك من الجهميَّة والمعتزلة، ومن نحا نحوهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔