(آیت 53){ هٰرُوْنَنَبِيًّا:} موسیٰ علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی تو انھوں نے اپنی مدد کے لیے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت عطا کرنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا اور اپنی خاص رحمت سے ان کے بھائی کو نبی بنا کر انھیں ہبہ فرما دیا۔ آج تک موسیٰ علیہ السلام کے سوا کسی بھائی نے اپنے بھائی کے لیے اتنے اونچے مرتبے کی دعا نہیں کی اور نہ ہارون علیہ السلام کے سوا کسی کو سفارش سے یہ مقام حاصل ہوا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست کا ذکر سورۂ طہ (۲۹ تا ۳۵)، شعراء (۱۲، ۱۳)اور قصص (۳۴، ۳۵) میں ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ اور اپنی مہربانی سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اسے (مدد کے طور پر) [50] دے دیا۔
[50] سیدنا ہارونؑ کب نبی بنے؟
سیدنا ہارون، سیدنا موسیٰ کے بھائی تھے، عمر میں تین سال بڑے تھے۔ بڑے پرہیزگار انسان تھے اور سیدنا موسیٰؑ کی نسبت فصیح اللسان بھی تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کو فرعون جیسے جابر بادشاہ کے پاس جانے، اسے راہ راست کی طرف دعوت دینے اور بنی اسرائیل کی رہائی کے مطالبہ کے لئے بھیجا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما اور اس عظیم ذمہ داری کے کام میں اسے میرا مددگار بنا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کی دعا قبول فرما کر اور نبوت عطا کر کے انھیں سیدنا موسیٰؑ کے ہمراہ کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَوَهَبْنَالَهٗمِنْرَّحْمَتِنَاۤاَخَاهُهٰؔرُوْنَنَبِیًّا﴾ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور ان کا اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خیر خواہی ہے کہ انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو ان کی ذمہ داری میں شریک کر کے انھیں بھی ان کی مانند رسول بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو رسول بنا دیا… پس ہارون علیہ السلام کی نبوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کے تابع ہے، حضرت ہارون علیہ السلام نبوت کے معاملات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {ووهَبْنا له من رحمتنا أخاه هارونَ نبيًّا}: هذا من أكبر فضائل موسى وإحسانه ونصحِهِ لأخيه هارون: أنَّه سأل ربَّه أن يُشْرِكَه في أمرِهِ وأن يجعلَه رسولاً مثله، فاستجاب الله له ذلك، ووهب له من رحمتِهِ أخاه هارونَ نبيًّا؛ فنبوَّة هارونَ تابعةٌ لنبوَّة موسى عليهما السلام، فساعده على أمرِهِ وأعانه عليه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔