تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ فَتَکُوۡنَ لِلشَّیۡطٰنِ وَلِیًّا ﴿۴۵﴾
اے میرے باپ! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ تجھ پر رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آ پڑے، پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔ En
ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں
En
ابّا جان! مجھے خوف لگا ہوا کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوْنَ لِلشَّ٘یْطٰ٘نِ وَلِیًّا پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں یعنی دنیا وآخرت میں۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں۔
اور یوں حضرت خلیل علیہ السلام نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {يا أبتِ إنِّي أخافُ أن يمسَّكَ عذابٌ من الرحمن}؛ أي: بسبب إصرارك على الكفر، وتماديك في الطغيان، {فتكونَ للشَّيْطانِ وليًّا}؛ أي: في الدُّنيا والآخرة، فتنزل بمنازله الذَّميمة، وترتع في مراتعه الوخيمة، فتدرَّج الخليل عليه السلام بدعوة أبيه بالأسهل فالأسهل، فأخبره بعلمه، وأنَّ ذلك موجبٌ لاتِّباعك إيَّاي، وأنَّك إن أطعتني؛ اهتديتَ إلى صراط مستقيم. ثم نهاه عن عبادةِ الشيطان، وأخبره بما فيها من المضارِّ. ثم حذَّره عقاب الله ونقمته إنْ أقام على حاله، وأنَّه يكون وليًّا للشيطان.