تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِہَتِیۡ یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہِ لَاَرۡجُمَنَّکَ وَ اہۡجُرۡنِیۡ مَلِیًّا ﴿۴۶﴾
اس نے کہا کیا بے رغبتی کرنے والا ہے تو میرے معبودوں سے اے ابراہیم!؟ یقینا اگر تو باز نہ آیا تو میں ضرور ہی تجھے سنگسار کر دوں گا اور مجھے چھوڑ جا، اس حال میں کہ تو صحیح سالم ہے۔ En
اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا
En
اس نے جواب دیا کہ اے ابراہیم! کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ سن اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا، جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ ره En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر یہ دعوت اس بدبخت کے کسی کام نہ آئی۔ اس نے ایک جاہل کی مانند جواب دیا: ﴿ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اے ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرتا ہے؟ اس نے اپنے معبودوں پر فخر کا اظہار کیا جو پتھر کے بنے ہوئے بت تھے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان معبودوں سے روگردانی کرنے پر ملامت کرنے لگا، یہ اس کی بہت بڑی جہالت اور بہت بڑا کفر تھا، وہ بتوں کی عبادت پر مدح چاہتا تھا اور اس عبادت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔ ﴿لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ یعنی اگر تو میرے معبودوں کو سب وشتم کرنے اور مجھے اللہ کی عبادت کی طرف دعوت دینے سے باز نہ آیا ﴿ لَاَرْجُمَنَّكَ یعنی میں تجھے پتھر مار مار کر قتل کر دوں گا ﴿ وَاهْجُرْنِیْ مَلِیًّا اور چھوڑ دے مجھ کو ایک مدت تک یعنی طویل زمانے تک میرے ساتھ بات نہ کر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم ينجعْ هذا الدعاء بذلك الشقيِّ، وأجاب بجواب جاهل وقال: {أراغبٌ أنت عن آلهتي يا إبراهيمُ}: فتبجَّح بآلهته التي هي من الحجرِ والأصنام، ولَامَ إبراهيم عن رغبتِهِ عنها، وهذا من الجهل المفرِطِ والكفر الوخيم؛ يتمدَّح بعبادةِ الأوثانِ ويدعو إليها. {لئن لم تَنْتَهِ}؛ أي: عن شتم آلهتي ودعوتي إلى عبادة الله، {لأرجُمَنَّكَ}؛ أي: قتلاً بالحجارة، {واهْجُرْني ملياً}؛ أي: لا تكلِّمْني زماناً طويلاً.