ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ فَتَکُوۡنَ لِلشَّیۡطٰنِ وَلِیًّا ﴿۴۵﴾
اے میرے باپ! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ تجھ پر رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آ پڑے، پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔ En
ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں
En
ابّا جان! مجھے خوف لگا ہوا کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 45){ يٰۤاَبَتِ اِنِّيْۤ اَخَافُ …:} چوتھی بات یہ کہ اسے بت پرستی کے برے انجام اور اس کے وبال اور عذاب سے ڈرایا اور اس میں بھی حسن ادب کو ملحوظ رکھا۔ صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ تم پر عذاب آ پڑے گا، بلکہ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آ لگے اور پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔ یہاں میں ڈرتا ہوں اور کوئی عذاب آ لگے کے الفاظ قابل غور ہیں کہ وہ کتنی سخت بات کو کس قدر نرمی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ پھر یہ بات کہ عذاب کا نتیجہ شیطان کا دوست اور ساتھی بننا ہو گا۔ معلوم ہوا کہ شیطان کا ساتھی بننا عذاب سے بھی بدتر ہے۔ یہ آخری نصیحت بھی { يٰۤاَبَتِ } کے پیارے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ (زمخشری)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 اگر آپ اپنے شرک وکفر پر باقی رہے اور اسی حال میں آپ کو موت آگئی، تو عذاب الٰہی سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ یا دنیا میں ہی آپ عذاب کا شکار نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر ہمیشہ کے لئے راندہ بارگاہ الٰہی ہوجائیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے ادب و احترام کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے، نہایت شفقت اور پیار کے لہجے میں باپ کو توحید کا وعظ سنایا، لیکن توحید کا سبق کتنے ہی شریں اور نرم لہجے میں بیان کیا جائے، مشرک کے لئے ناقابل برداشت ہی ہوتا ہے۔ چناچہ مشرک باپ نے اس نرمی اور پیار کے جواب میں نہایت درشتی اور تلخی کے ساتھ موحد بیٹے کو کہا اگر تو میرے معبودوں سے روگردانی کرنے سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ ابا جان! مجھے خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کو سزا [42] ملے گی اور آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں گے۔
[42] اللہ کی طرف سے کوئی جسمانی سزا ملے یا نہ ملے یہ تو ضرور ملے گی کہ اگر تم شیطان ہی کی اطاعت کرتے رہے تو تمہیں کبھی ہدایت نصیب نہ ہو گی۔ پھر تم ہمیشہ کے لئے شیطان ہی کے ساتھی بن جاؤ گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ ابا جان! مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں رحمٰن کی طرف سے عذاب نہ آلے یعنی کفر پر آپ کے اصرار اور سرکشی میں آپ کے بڑھتے چلے جانے کے سبب سے۔ ﴿ فَتَكُوْنَ لِلشَّ٘یْطٰ٘نِ وَلِیًّا پس آپ شیطان کے دوست ہو جائیں یعنی دنیا وآخرت میں۔ پس آپ اس کے مذموم مقام و منزلت پر اتار دیے جائیں اور شیطان کی ضرر رساں اور گندی چراگاہ میں چریں۔
اور یوں حضرت خلیل علیہ السلام نے اپنے باپ کو آسان سے آسان تر امر کی طرف دعوت دی۔ آپ نے اسے اپنے علم کے ذریعے سے بتایا کہ یہ چیز آپ پر میری اطاعت کی موجب ہے اگر آپ میری اطاعت کریں گے تو میں سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا، پھر آپ نے اسے شیطان کی عبادت سے منع فرمایا اور اسے ان مضرتوں کے بارے میں خبردار کیا جو شیطان کی عبادت میں پنہاں ہیں، پھر اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرایا کہ اگر وہ اپنے اسی حال پر قائم رہا تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا اور وہ شیطان کا دوست شمار ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {يا أبتِ إنِّي أخافُ أن يمسَّكَ عذابٌ من الرحمن}؛ أي: بسبب إصرارك على الكفر، وتماديك في الطغيان، {فتكونَ للشَّيْطانِ وليًّا}؛ أي: في الدُّنيا والآخرة، فتنزل بمنازله الذَّميمة، وترتع في مراتعه الوخيمة، فتدرَّج الخليل عليه السلام بدعوة أبيه بالأسهل فالأسهل، فأخبره بعلمه، وأنَّ ذلك موجبٌ لاتِّباعك إيَّاي، وأنَّك إن أطعتني؛ اهتديتَ إلى صراط مستقيم. ثم نهاه عن عبادةِ الشيطان، وأخبره بما فيها من المضارِّ. ثم حذَّره عقاب الله ونقمته إنْ أقام على حاله، وأنَّه يكون وليًّا للشيطان.