تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا ﴿۳۳﴾
اور خاص سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوں گا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائوں گا۔ En
اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے
En
اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوباره زنده کھڑا کیا جاؤں گا، سلام ہی سلام ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰ٘مُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما تمَّ له الكمالُ ومحامد الخصال؛ قال: {وسلامٌ عليَّ يومَ ولِدْتُ ويوم أموتُ ويومَ أبعثُ حيًّا}؛ أي: من فضل ربي وكرمه حصلتْ لي السلامةُ يوم ولادتي ويوم موتي ويوم بعثي من الشرِّ والشيطان والعقوبة، وذلك يقتضي سلامته من الأهوال ودار الفجَّار، وأنَّه من أهل دار السلام؛ فهذه معجزةٌ عظيمة وبرهانٌ باهرٌ على أنَّه رسول الله وعبدُ الله حقًّا.