تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 32

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا ﴿۳۲﴾
اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے سرکش، بدبخت نہیں بنایا۔ En
اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا
En
اور اس نے مجھے اپنی والده کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔
﴿وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًؔا اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں۔ ﴿ شَقِیًّا یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأوصاني أيضاً أن أبَرَّ والدتي فأحسِنَ إليها غايةَ الإحسان، وأقومَ بما ينبغي لها؛ لشرفِها وفضلِها، ولكونِها والدةً لها حقُّ الولادة وتوابعها. {ولم يَجْعَلْني جباراً}؛ أي: متكبراً على الله مترفِّعاً على عباده، {شقيًّا}: في دنياي وأخراي، فلم يجعلني كذلك، بل جعلني مطيعاً له خاضعاً خاشعاً متذللاً متواضعاً لعباد الله سعيداً في الدُّنيا والآخرة أنا ومن اتَّبعني.