ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا ﴿۳۳﴾
اور خاص سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوں گا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائوں گا۔ En
اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے
En
اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوباره زنده کھڑا کیا جاؤں گا، سلام ہی سلام ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33){ وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ …:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۵) وہاں { سَلٰمٌ } اور یہاں { السَّلٰمُ } ہے، اس لیے ترجمہ خاص سلامتی کیا ہے۔ اس خاص سلامتی میں وہ خصوصیت بھی شامل ہے جو صرف عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو حاصل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ إِلَّا وَالشَّيْطَانُ يَمَسُّهُ حِيْنَ يُوْلَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ إِلَّا مَرْيَمَ وَابْنَهَا ثُمَّ يَقُوْلُ أَبُوْ هُرَيْرَةَ وَاقْرَؤُوْا إِنْ شِئْتُمْ: «{ وَ اِنِّيْ اُعِيْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏و إنی أعیذھا بک…» : ۴۵۴۸، عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ]کوئی بچہ نہیں مگر اس کا حال یہ ہے کہ شیطان اسے پیدا ہوتے وقت چھوتا ہے تو وہ اس کے چھونے کی وجہ سے چلاتے ہوئے اونچی آواز سے روتا ہے، سوائے مریم کے اور اس کے بیٹے کے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے:اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «{ وَ اِنِّیْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ (یعنی مریم علیھا السلام کی والدہ نے دعا کی تھی کہ یا اللہ!) میں اس (مریم) کو اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں پیدا ہوا اور اس دن [30] بھی جب میں مروں گا اور اس دن بھی جب میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔
[30] سیدنا عیسیٰؑ کے اس وقت کے کلام کے باقی نکات یہ تھے کہ میں جہاں کہیں بھی رہوں گا اللہ کی مہربانی سے اس کی برکات میرے شامل حال رہیں گی اور مجھے یہ بھی تاکیدی حکم دیا گیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں باقاعدگی کے ساتھ نمازیں اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں۔ اور اپنی والدہ سے بہتر سلوک کرتا رہوں (صرف والدہ کا ذکر اس لئے کیا کہ آپ کا والد تھا ہی نہیں ورنہ اس کا بھی ضرور ذکر کرتے) اللہ نے میری سرشت میں نہ سرکشی رکھی ہے اور نہ بدبختی۔ جب میں پیدا ہوا تھا تو اس دن بھی اللہ نے مجھ پر سلامتی نازل فرمائی تھی اور مرتے وقت حتیٰ کہ مرنے کے بعد اٹھتے وقت یعنی اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی بہرحال اللہ مجھ پر سلامتی نازل فرمائے گا۔ یہ تھا وہ پورا کلام جو سیدنا عیسیٰؑ نے اس وقت کیا تھا جبکہ آپ کی والدہ پر الزام تراشیاں کی جا رہی تھیں۔
گود میں کلام کرنے والے تین بچے:۔
واضح رہے کہ بخاری و مسلم دونوں میں ایک طویل حدیث موجود ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ بنی اسرائیل کے تین بچوں نے مہد میں کلام کیا تھا۔ ان میں سے ایک تو یہی سیدنا عیسیٰؑ ہیں۔ ان کے مخاطب یہود تھے اور آپ کے اس کلام کا مقصود پہلے بیان ہو چکا ہے۔ دوسرا ابن جریج راہب کا قصہ ہے جسے بالخصوص مسلم نے بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ابن جریج راہب پر زنا کی تہمت لگائی گئی تو انہوں نے اللہ سے بریت کی دعا کی پھر حرامی نومولود بچہ کو کچوکا لگا کر پوچھا کہ بتاؤ کہ تمہارا باپ کون ہے؟ تو بچہ بول اٹھا کہ فلاں چرواہا ہے۔ اس طرح اللہ نے ابن جریج راہب کو زنا کی تہمت سے بری فرما دیا۔ اور تیسرے بچہ کی مخاطب اس کی ماں تھی جو سامان دنیا پر ریجھی ہوئی تھی تو بچہ نے بول کر اپنی ماں کی گمراہ کن غلط فہمی کو دور کر دیا۔ اور مہد میں کلام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ شیر خوارگی کے عالم میں کلام کرے جب کہ ابھی اس نے کلام کرنا نہ سیکھا ہو۔ اور یہ مہد کا کلام تینوں واقعات میں صرف ایک ہی بار وقوع پذیر ہوا۔ یہ نہیں کہ ان بچوں نے اس عالم میں متعدد بار کلام کیا ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کمال اور ان کے قابل ستائش خصائل کی تکمیل ہو گئی تو انھوں نے فرمایا: ﴿ وَالسَّلٰ٘مُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر یعنی میرے رب کے فضل و کرم سے، جس روز میری ولادت ہوئی، جس روز میں مروں اور جس روز مجھے اٹھایا جائے گا، مجھے ہر قسم کے شر، شیطان اور عذاب سے سلامتی حاصل ہے۔ یہ سلامتی ہر قسم کے خوف، فاجروں کے گھر سے سلامتی اور دارالسلام کے مستحق ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ ایک عظیم معجزہ اور اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ درحقیقت اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما تمَّ له الكمالُ ومحامد الخصال؛ قال: {وسلامٌ عليَّ يومَ ولِدْتُ ويوم أموتُ ويومَ أبعثُ حيًّا}؛ أي: من فضل ربي وكرمه حصلتْ لي السلامةُ يوم ولادتي ويوم موتي ويوم بعثي من الشرِّ والشيطان والعقوبة، وذلك يقتضي سلامته من الأهوال ودار الفجَّار، وأنَّه من أهل دار السلام؛ فهذه معجزةٌ عظيمة وبرهانٌ باهرٌ على أنَّه رسول الله وعبدُ الله حقًّا.