ترجمہ و تفسیر — سورۃ مريم (19) — آیت 32

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیۡ ۫ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡنِیۡ جَبَّارًا شَقِیًّا ﴿۳۲﴾
اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے سرکش، بدبخت نہیں بنایا۔ En
اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا
En
اور اس نے مجھے اپنی والده کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ {وَبَرًّۢا بِوَالِدَتِيْ …:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۱۴) وہاں { عَصِيًّا } فرمایا اور یہاں { شَقِيًّا۔} معلوم ہوا کہ والدین سے بدسلوکی کرنے والا شقی اور بدنصیب ہے، خصوصاً ایسی والدہ سے جو باپ اور ماں دونوں کی جگہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ قِيْلَ مَنْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ] [مسلم، البر والصلۃ، باب رغم من أدرک أبویہ أو أحدھما…: ۲۵۵۱، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو! پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کون؟ فرمایا: جس نے اپنے والدین میں سے ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔ جنت میں داخلے سے محروم ہو جانے سے بڑھ کر کیا بدبختی ہو گی؟
عیسیٰ علیہ السلام نے صرف والدہ کا نام لیا، تاکہ لوگوں کو ان کے باپ کے بغیر پیدا ہونے کا یقین ہو جائے اور والدہ کا ہر تہمت سے پاک ہونا ثابت ہو جائے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 صرف والدہ کے ساتھ حسن سلوک کے ذکر سے بھی واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت بغیر باپ کے ایک اعجازی شان کی حامل ہے، ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ لسلام بھی، حضرت یحیٰی ؑ کی طرح (ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا) کہتے، یہ نہ کہتے کہ میں ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔ 32۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ماں باپ کا خدمت گزار اور اطاعت شعار نہیں ہوتا، اس کی فطرت میں سرکشی اور قسمت میں بدبختی لکھی ہے، حضرت عیسیٰ ؑ نے ساری گفتگو ماضی کے صیغوں میں کی ہے حالاں کہ ان تمام باتوں کا تعلق مستقبل سے تھا، کیونکہ ابھی تو وہ شیر خوار بچے ہی تھے۔ یہ اس لئے کہ یہ اللہ کی تقدیر کے اٹل فیصلے تھے کہ گو ابھی یہ معرض ظہور میں نہیں آئے تھے لیکن ان کا وقوع اس طرح یقینی تھا جس طرح کے گزرے ہوئے واقعات شک وشبہ سے بالا ہوتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ اور یہ بھی کہ میں اپنی والدہ سے بہتر سلوک کرتا رہوں۔ نیز اللہ نے مجھے جابر اور بد بخت نہیں بنایا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نیز اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وصیت بھی کی ہے کہ میں اپنی ماں کی اطاعت کروں، اس کے ساتھ خوب احسان کروں اور اس کے حقوق پورے کروں کیونکہ اسے شرف اور فضیلت حاصل ہے۔ وہ ماں ہے اس لیے وہ جنم دینے کی بنا پر مجھ پر ولادت کا حق اور اس کے تابع دیگر حقوق رکھتی ہے۔
﴿وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًؔا اور نہیں بنایا اس نے مجھے سرکش یعنی میں اللہ تعالیٰ کے حضور تکبر کرنے والا اور بندوں سے اپنے آپ کو بڑا اور بلند سمجھنے والا نہیں ہوں۔ ﴿ شَقِیًّا یعنی میں دنیا و آخرت میں بدبخت نہیں ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا اطاعت شعار، اپنے سامنے جھکنے والا، عاجزی اور تذلل اختیار کرنے والا، اللہ کے بندوں کے ساتھ تواضع اور انکساری سے پیش آنے والا اور دنیا و آخرت میں سعادت سے بہرہ مند ہونے والا بنایا۔ مجھے بھی اور میرے پیروکاروں کو بھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأوصاني أيضاً أن أبَرَّ والدتي فأحسِنَ إليها غايةَ الإحسان، وأقومَ بما ينبغي لها؛ لشرفِها وفضلِها، ولكونِها والدةً لها حقُّ الولادة وتوابعها. {ولم يَجْعَلْني جباراً}؛ أي: متكبراً على الله مترفِّعاً على عباده، {شقيًّا}: في دنياي وأخراي، فلم يجعلني كذلك، بل جعلني مطيعاً له خاضعاً خاشعاً متذللاً متواضعاً لعباد الله سعيداً في الدُّنيا والآخرة أنا ومن اتَّبعني.