تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس حضرت مریم علیہا السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو اور انھوں نے اس لیے اس طرف اشارہ کیا کیونکہ حضرت مریم علیہا السلام کو حکم دیا گیا تھا کہ جب لوگ ان سے مخاطب ہوں تو تم کہہ دینا: ﴿ اِنِّیْنَذَرْتُلِلرَّحْمٰنِصَوْمًافَلَ٘نْاُكَلِّمَالْیَوْمَاِنْسِیًّا ﴾”میں نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی۔“ جب انھوں نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے کلام کریں تو لوگوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا اور انھوں نے کہا: ﴿ كَیْفَنُكَلِّمُمَنْكَانَفِیالْمَهْدِصَبِیًّا ﴾”ہم کیوں کر کلام کریں اس سے کہ ہے وہ گود میں بچہ“ کیونکہ یہ عام طور پر عادت جاریہ نہیں اور نہ کسی نے اس عمر میں کلام کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأشارتْ} لهم {إليه}؛ أي: كلِّموه، وإنَّما أشارت لذلك لأنَّها أمرت عند مخاطبة الناس لها أن تقول: {إنِّي نذرتُ للرحمن صوماً فلن أكَلِّمَ اليوم إنسيًّا}، فلما أشارت إليهم بتكليمه؛ تعجَّبوا من ذلك، وقالوا: {كيف نكلِّمُ مَن كانَ في المهدِ صَبيًّا}؛ لأنَّ ذلك لم تجرِ به عادةٌ ولا حصل من أحدٍ في ذلك السنِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔