تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 30

قَالَ اِنِّیۡ عَبۡدُ اللّٰہِ ۟ؕ اٰتٰنِیَ الۡکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیۡ نَبِیًّا ﴿ۙ۳۰﴾
اس نے کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ہے۔ En
بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے
En
بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بنده ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام، پنگوڑے میں سے بولے: ﴿اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں آپ علیہ السلام نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے ارشاد ﴿ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کی موافقت کرتے ہیں۔ ﴿اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ دی اس نے مجھے کتاب یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ قال عيسى عليه السلام وهو في المهد صبيٌّ: {إنِّي عبد الله آتانيَ الكتاب وجَعَلَني نبيًّا}: فخاطبهم بوصفه بالعبوديَّة، وأنه ليس فيه صفةٌ يستحقُّ بها أن يكون إلهاً أو ابناً للإله، تعالى الله عن قول النصارى المخالفين لعيسى في قوله: {إنِّي عبدُ الله}، ومدَّعون موافقته، {آتانيَ الكتابَ}؛ أي: قضى أن يؤتيني الكتابَ، {وجَعَلَني نبيًّا}: فأخبرهم بأنَّه عبدُ الله، وأنَّ الله علَّمه الكتاب وجعله من جملة أنبيائه؛ فهذا من كماله لنفسه.