تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام، پنگوڑے میں سے بولے: ﴿اِنِّیْعَبْدُاللّٰهِ﴾”بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں “ آپ علیہ السلام نے ان کو اپنے وصف عبودیت سے آگاہ فرمایا اور ان پر واضح کیا کہ وہ کسی ایسی صفت کے حامل نہیں جو انھیں الوہیت یا اللہ کا بیٹا ہونے کا مستحق بنا دے۔ اللہ تعالیٰ ان عیسائیوں کے قول سے بالا و برتر ہے۔ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے ارشاد ﴿ اِنِّیْعَبْدُاللّٰهِ ﴾”میں اللہ کا بندہ ہوں۔“ کی صریحاً مخالفت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کی موافقت کرتے ہیں۔ ﴿اٰتٰىنِیَالْكِتٰبَ ﴾”دی اس نے مجھے کتاب“ یعنی اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ مجھے کتاب عطا کرے گا ﴿ وَجَعَلَنِیْنَبِیًّا﴾”اور اس نے مجھے نبی بنایا ہے“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب کی تعلیم دی اور انھیں جملہ ا نبیاء میں شامل کیا اور یہ ان کا کمال نفس ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحينئذٍ قال عيسى عليه السلام وهو في المهد صبيٌّ: {إنِّي عبد الله آتانيَ الكتاب وجَعَلَني نبيًّا}: فخاطبهم بوصفه بالعبوديَّة، وأنه ليس فيه صفةٌ يستحقُّ بها أن يكون إلهاً أو ابناً للإله، تعالى الله عن قول النصارى المخالفين لعيسى في قوله: {إنِّي عبدُ الله}، ومدَّعون موافقته، {آتانيَ الكتابَ}؛ أي: قضى أن يؤتيني الكتابَ، {وجَعَلَني نبيًّا}: فأخبرهم بأنَّه عبدُ الله، وأنَّ الله علَّمه الكتاب وجعله من جملة أنبيائه؛ فهذا من كماله لنفسه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔